BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 March, 2008, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پیمرا کو ہی ختم کیا جائے‘

صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ
’ترمیمی آرڈیننس ختم کرنے کا اعلان صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے‘
پاکستانی صحافیوں کی تنظیموں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے میڈیا کی آزادی کے منافی قوانین کے خاتمے اور صحافیوں کی بہبود کے لیے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس کا کہنا ہے کہ’یہ اقدامات بڑے خوش آئند ہیں اور نہ صرف یہ کہ پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے جو بات ہوئی ہے بلکہ ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد اور آئی آر او 2002ء کا خاتمہ بڑے مثبت اقدامات ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان پر
صحیح معنوں میں عملدرآمد ہوتا ہے یا نہیں‘۔

صدر پرویز مشرف نےگزشتہ سال تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے جہاں تمام نجی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کروا دی تھیں وہیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے لیے دو الگ الگ ترمیمی آرڈیننس جاری کرکے میڈیا پر سخت پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔

اس کے علاوہ پیمرا نے نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق بھی جاری کیا تھا جس کے تحت انہیں پابند کیا گیا کہ وہ کسی احتجاج یا بم دھماکے کے واقعے کی براہ راست کوریج نہیں کریں گے اور عوام کی براہِ راست کالز پروگراموں میں شامل نہیں کریں گے۔

پاکستان کے تقریباً تمام ٹی وی چینلز کے مالکان نے ان پابندیوں کو تسلیم کرتے ہوئے جلد یا بدیر اپنی نشریات بحال کرا لی تھیں لیکن صحافیوں نے ان پابندیوں کے خلاف اپنا ملک گیر احتجاج جاری رکھا جس کے دوران کراچی سمیت مختلف شہروں میں صحافیوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی اور متعدد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

تاہم اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج نے جہاں ملک کے سیاسی منظرنامے کو بدلا وہیں میڈیا نے بھی ان پابندیوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دی۔ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سےگزشتہ سال تین نومبر کو میڈیا پر پابندیاں لگانے والے ترمیمی آرڈیننس ختم کرنے کا اعلان صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کے لیے ہم نے قریباً 77، 78 دن جدوجہد کی، اس میں ہمارے ساتھی جیل بھی گئے اور زخمی بھی ہوئے لیکن ہم نے جدوجہد جاری رکھی‘۔

پیمرا ترمیمی آرڈیننس کی طرح پیمرا کو بھی ختم ہونا چاہیے اور اس کی جگہ ایسا خودمختار ادارہ قائم ہونا چاہیے جو حکومت کے کنٹرول سے آزاد ہو اور اس میں صحافیوں اور میڈیا مالکان کو شامل کرنا چاہیے تاکہ وہ خود اپنا احتساب کر سکیں۔
مظہر عباس

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان اقدمات کے باوجود پیمرا کو وزارت اطلاعات کے ماتحت ادارے کے طور پر برقرار رکھنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیمرا کو قائم رکھا گیا تو نجی ٹی وی اور ریڈیو چینلز پر سرکاری کنٹرول برقرار رہے گا۔’ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مثبت اقدام نہیں ہے، پیمرا ترمیمی آرڈیننس کی طرح پیمرا کو بھی ختم ہونا چاہیے اور اس کی جگہ ایسا خودمختار ادارہ قائم ہونا چاہیے جو حکومت کے کنٹرول سے آزاد ہو اور اس میں صحافیوں اور میڈیا مالکان کو شامل کرنا چاہیے تاکہ وہ خود اپنا احتساب کر سکیں‘۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی تقریر میں صحافیوں کے ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی تاہم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی رہنما فوزیہ شاہین اس اعلان سے مطمئن نہیں۔

ان کا کہنا ہے’ایک تو بات بالکل واضح ہے کہ ویج بورڈ ایک قانون کے تحت کام کرتا ہے تو وزیر اعظم کو اس کی سفارشات پر قانون کے مطابق فوری طور پر عملدرآمد کا حکم دینا چاہیے، اگر یہ معاملہ میڈیا کے مالکان سے مذاکرات تک چھوڑ دیا جاتا ہے تو اس میں رکاوٹ آئے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کو اس سلسلے میں ایک پالیسی بنا کر اخبارات کو ملنے والے سرکاری اشتہارات کو ویج بورڈ پر عملدرآمد سے مشروط کردینا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد