صدر مشرف کے لیے’ کھلا پیغام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی سے متفقہ اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے سید یوسف رضا گیلانی نے جہاں نئی تاریخ رقم کی ہے وہاں ملک میں طاقت کے منبع کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد جو تقریر کی اس کی گونج تو شاید کئی دنوں تک سنائی دے لیکن یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ یوسف رضا گیلانی شاید پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی، جس کی قواعد میں گنجائش نہیں ہے۔ سویلین اداروں میں تعینات فوجی افسران کو دو ہفتوں کے اندر واپس بلانے کی بات ہو یا پھر صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں برطرف کردہ ججوں کی بحالی، ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے قانون ختم کرنے کا معاملہ ہو یا صنعتوں اور مزدوروں کے بارے میں قانون کی منسوخی یہ سب اعلانات بعض تجزیہ نگاروں کی نظر میں صدر پرویز مشرف کے فیصلوں اور پالیسیوں سے کھلم کھلا بغاوت ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی ملک کے شاید پہلے وزیراعظم ہوں جنہوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں اپنے شہریوں پر ریاستی جبر اور تشدد کا اقرار کرتے ہوئے بلوچوں اور دیگر متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بات کی ہے۔ ان کا ملک بھر سے سیاسی کارکنوں کو باعزت بری کرنے کا اعلان جہاں صدر پرویز مشرف کی جانب سے بلوچستان میں فوجی آپریشن کو مسترد کرتا ہے وہاں انٹیلی جنس اداروں کو بھی واضح پیغام ہے، جن پر سپریم کورٹ میں شک کی بنیاد پر سینکڑوں شہریوں کو لاپتہ کرنے اور غیر قانونی حراست کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کی حمایت یافتہ جماعت مسلم لیگ (ق) میں شمولیت سے انکار کے بعد اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے کیس میں پانچ برس قید کاٹنے والے سید یوسف رضا گیلانی کے لب ولہجے کا اندازہ تو صدر پرویز مشرف کو چھبیس مارچ کو اس وقت ہی ہوگیا تھا جب ایوان صدر میں ان سے حلف لیا تھا، لیکن انہیں شاید عوامی جمہوریت کے جادو کا سر چڑھ کر بولنے کا اندازہ اتنا نہیں تھا، کیونکہ صدر صاحب کا زیادہ تر تجربہ جرنیلی جمہوریت کا ہی رہا ہے، جس میں سب ’یس سر‘ والے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی جانب سے یوسف رضا گیلانی پر اعتماد کا اظہار کرنے کے بارے میں پیپلز پارٹی نے جو پتہ کھیلا ہے وہ بظاہر ایک تیر سے دو شکار کرنے کے مترادف ہے۔ ایک تو مسلم لیگ نواز اور دیگر اتحادیوں کو پیغام ہے کہ اگر انہوں نے پیپلز پارٹی کے لیے کوئی مشکل پیدا کرنے کی کوشش کی تو متبادل اتحادی موجود ہیں جبکہ دوسری طرف صدر پرویز مشرف کو بھی یہ کھلا پیغام ہے کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں کیونکہ ان کے اتحادی بھی اب پیپلز پارٹی کی جیب میں ہیں۔ وزیراعظم کے اعلانات سننے کے بعد بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان کی ’سکیورٹی سٹیٹ‘ سے عوامی فلاحی ریاست کی طرف منتقلی کا آغاز ہے۔ پاکستان میں وزیراعظم نے تو خیر سے اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے لیکن تاحال کابینہ نہیں بنی۔ کابینہ کے ناموں کو اتحادی جماعتوں نے حتمی شکل دے دی ہے لیکن حلف برداری میں دو روز کی تاخیر صدر پرویز مشرف کی اسلام آباد میں عدم دستیابی بتائی جا رہی ہے۔ بعض حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی حلف برداری کے بعد ایوان صدر میں جیے بھٹو اور بینظیر چاروں صوبوں کی زنجیر کے نعروں پر صدر پرویز مشرف بہت خفا ہوگئے ہیں اور ان کی خفگی بھی تاخیر کا بظاہر ایک سبب بن سکتی ہے۔ اب کابینہ کی حلف برداری پیر کو ایوان صدر میں ہوگی جہاں ہو سکتا ہے کہ پہلے سے زیادہ بلند آواز میں صدر صاحب کو ایک بار پھر جیے بھٹو کے ’ناپسندیدہ‘ نعروں کی گونج نہ چاہتے ہوئے بھی پھر سے سنائی دے۔ | اسی بارے میں میڈیا،یونینز پر عائد پابندی کا خاتمہ29 March, 2008 | پاکستان ’اصل چیلنج اعلان پر عملدرآمد‘29 March, 2008 | پاکستان ’مشرف کی پالیسی نہ دہرائیں تو تعاون‘29 March, 2008 | پاکستان کابینہ کا اعلان، اعتماد کے بعد28 March, 2008 | پاکستان 72 فوجی سول محکموں سے واپس28 March, 2008 | پاکستان کابینہ پر اتفاقِ رائے، اعلان جلد متوقع28 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||