BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 March, 2008, 11:15 GMT 16:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابینہ پر اتفاقِ رائے، اعلان جلد متوقع

ممکنہ وزراء
وزراء کے ناموں پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے
پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر اتحادی جماعتوں کے درمیان وفاقی کابینہ میں وزارتوں کی تقسیم کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اس کا اعلان جمعہ کی شام متوقع ہے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارتوں کی تقسیم کے مذاکرات کے لیے قائم شدہ کمیٹی کے رکن سینیٹر رضا ربانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اتفاق رائے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے وزارتوں کی تقسیم کی تفصیل بتانے سے انکار کیا۔

دوسری طرف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے سنیچر کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا۔وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنی حکومت کے آئندہ سو روز کی ترجیحات کا بھی اعلان کریں گے۔

ادھر کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ بائیس رکنی ہوگی جس میں بڑا حصہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا ہوگا تاہم جعمیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقوں کے اراکین کو بھی نمائندگی ملے گی۔

پیپلز پارٹی ذرائع پہلے ہی شاہ محمود قریشی کے بطور وزیر خارجہ اور مسلم لیگ (ن) کے اسحاق ڈار کو وزیرِ خزانہ مقرر کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو وزارت داخلہ، دفاع، مواصلات اور اطلاعات کی وزارتیں ملیں گی جبکہ تعلیم، صحت، وزارت خوراک، شمالی علاقہ جات اور امور کشمیر کی وزارتیں مسلم لیگ (ن) کو ملنے کی توقع ہے۔

 صوبہ سرحد میں اکثریت حاصل کرنے والی عوامی نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ اسے دو وزارتیں ملیں گی۔ اے این پی کے سیکرٹری زاہد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لوکل باڈیز اور سماجی بہبود کی وزارتیں ملنے کی تصدیق کی ہے۔

صوبہ سرحد میں اکثریت حاصل کرنے والی عوامی نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ اسے دو وزارتیں ملیں گی۔ اے این پی کے سیکرٹری زاہد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لوکل باڈیز اور سماجی بہبود کی وزارتیں ملنے کی تصدیق کی ہے۔

تاہم اخباری اطلاعات کے حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ پانی و بجلی کی وزارت میں دلچسپی رکھتے تھے تو انہوں نے اس کی نفی کی۔ تاہم انہوں نے نہیں بتایا کہ یہ وزارتیں جماعت کن اراکین اسمبلی کو دے گی۔

ادھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں مذہبی امور کی وزارت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کو قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کا سربراہ بھی بنایا جائے گا۔جے یو آئی ذرائع کے مطابق اسے ملنے والی وزارت مولانا فضل الرحمان کے بھائی عطاءالرحمان کی کامیابی کی صورت میں انہیں دیے جانے کا امکان ہے۔ عطاء الرحمان کی انتخابی پٹیشن کی سماعت دو اپریل کو سپریم کورٹ میں ہوگی۔

حسین حقانیدو مشیر و سفیر
حقانی اور رحمان ملک کا بطور مشیر و سفیر تقرر
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانیوزارتوں کا اعلان
وفاقی کابینہ کا اعلان سنیچر کو متقع ہے
اسی بارے میں
ایک سرد حلف برداری
25 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد