کابینہ کا اعلان، اعتماد کے بعد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ہفتے کو قومی اسمبلی سے اعتماد کو ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنی چوبیس رکنی کابینہ کا اعلان کریں گے۔ نئی کابینہ میں وزارتوں کی تقسیم کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں قیام ہونے والی مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان مفاہمت ہو گئی ہے جس کا اعلان سنیچر کو کیا جائے گا۔ مخلوط حکومت میں شامل پاکستان مسلم لیگ نون کے سیکریٹری اطلاعات چودھری احسن اقبال نے جمعہ کو رات گئے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کا اعلان ہفتے کو وزیراعظم کے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد کریں گے۔ توقع کی جا رہی تھی کے نئی کابینہ میں شامل ویزروں کے ناموں کا اعلان جمعہ کی شام تک کر دیا جائے لیکن جمعہ کو رات گئے تک مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کی طرف سے کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ چودھری احسن اقبال نے اس تاثر کی نفی کی کہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان کابینہ میں وزارتوں کی تقسیم کے معاملے پر اختلاف کی وجہ سے اس ضمن میں کوئی اعلان کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام امور پر اتحادی جماعتوں نے اتفاق رائے حاصل کرلیا ہے اور ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا جو احتلاف یا تنازعہ کا باعث بنا ہو۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مشاورت میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی کابینہ میں تیئس سے چوبیس وزراء پر مشتمل ہو گئی جس میں تمام اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ ایم کیو ایم کی کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ مخلوط حکومت اعلان بھور بن اور میثاق جمہوریت کی بنیاد پر بنی ہے اور اگر ایم کیو ایم ان دستاویزات پر متفق ہوجائیں تو اسی صورت انہیں وفاقی حکومت میں نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ وزارتِ عظمٰی کے لیے ایم کیو ایم کی حمایت کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ حمایت انہوں نے رضاکارانہ طور پر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنیچر کو یوسف رضا گیلانی کو ایم کیو ایم کے علاوہ مسلم لیگ فنکشنل بھی اعتماد کا ووٹ دے گی۔ کابینہ کے حلف کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ طے نہیں ہے کہ نئی کابینہ کے ارکان کب حلف اٹھائیں گے۔ اس ضمن میں ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ صدر اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے سنیچر کو نئی کابینہ سے حلف نہیں لے پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین صدر کو واضح طور پر پابند کرتا ہے کہ وہ کابینہ سے حلف لیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو اپنی دیگر مصروفیات کو مؤخر کر کے نئی کابینہ سے حلف لینا چاہیے۔ چودھری احسن اقبال نے کہا کہ کل یہ واضح ہو جائے گا کہ صدر کی کیا مصروفیات تھیں۔ |
اسی بارے میں حسین حقانی اور رحمان ملک کا تقرر28 March, 2008 | پاکستان فے نے بھی قاف سے راستہ الگ کر لیا27 March, 2008 | پاکستان اعتماد کاووٹ ہفتےکو لیں گے26 March, 2008 | پاکستان وزارتوں کا اعلان سنیچر کو؟26 March, 2008 | پاکستان ایک سرد حلف برداری25 March, 2008 | پاکستان اعتماد کاووٹ ہفتےکو لیں گے25 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||