سپریم کورٹ: جیو، جنگ کی طلبی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین نومبر کے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے کہا ہے کہ وہ اُس وقت تک سپریم کورٹ کے کسی جج کی تصویر یا خبر شائع نہیں کریں جب تک اُس کی تصدیق نہ کرلی جائے اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے اس کی اس کی اجازت نہ طلب کی جائے۔ یہ احکامات سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سیکرٹری داخلہ کے ساتھ ملاقات کی خبر نشر کرنے پر از خود نوٹس لینے کی کارروائی کے دوران کہی۔ سپریم کورٹ نے مقامی نجی ٹی وی چینل جیو کے بیورو چیف اور مقامی روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر اور پبلیشر کو بارہ مئی کو عدالت میں طلب کیا ہے۔ عدالت نے پیمرا کے چئیرمین اور وزارت اطلاعات کے سیکریٹری کو بھی طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عدالت کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے بارے میں ضابطہ اخلاق کے بارے میں بتائیں۔ جسٹس نواز عباسی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے اس از خودنوٹس کی سماعت کے دوران شریف الدین پیرزادہ، عبدالحفیظ پیرزادہ اور وسیم سجاد کو بھی عدالت کی معاونت کے لیے طلب کیا ہے۔ واضح رہے کہ نجی ٹی وی چینل اور مذکورہ اخبار نے آٹھ مئی کو ایک خبر نشر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس نواز عباسی اور فقیر محمد کھوکھر نے سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ سے ملاقات کی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی طرف سے اس کی تردید کی تھی۔ عدالت نے جن افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں اُن سے کہا گیا ہے کہ وہ اس کا جواب دیں کہ انہوں نے کن ذرائع سے تصدیق کر کے یہ خبر نشر کی۔ | اسی بارے میں میڈیا قوانین کا خاتمہ یا ترامیم09 April, 2008 | پاکستان دو نجی چینلز کو نشریات کی اجازت15 November, 2007 | پاکستان آرڈیننس ضابطۂ اخلاق سے مشروط 10 June, 2007 | پاکستان نئے پیمرا قانون میں نیا کیا؟06 June, 2007 | پاکستان میڈیا پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین04 June, 2007 | پاکستان کیا حکومت بوکھلا گئی ہے؟01 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||