BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 May, 2008, 04:39 GMT 09:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیس سال پہلے جب صحافیوں کو کوڑے لگے
جن صحافیوں کو کوڑوں کی سزا سنائی گئی
صحافیوں نے فوجی طاقت سے دہشت زدہ ہونے سے انکار کردیا تھا
آج تیرہ مئی ہے اور پاکستان میں صحافی تیرہ مئی کو یوم آزادئ صحافت مناتے ہیں۔ کیونکہ تیس برس قبل آج ہی کہ دن یعنی تیرہ مئی 1978 کو اس وقت کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، جنرل ضیا الحق کے خلاف صحافیوں نے ملک بھر میں آزادی صحافت کی ایک تحریک چلا رکھی تھی۔

جنرل ضیا نے کئی اخبارات بند کر دیے تھے۔ لاہور کے ایک صحافی نعیم الحسن کی تحقیق کے مطابق، 1978 میں صحافیوں کی اس تحریک کے دوران کم از کم چار سو صحافی گرفتار ہوئے تھے۔ اسی تحریک میں چار صحافیوں کو ایک فوجی عدالت نے دس دس کوڑے لگانے کی سزا بھی سنائی تھی۔

ان صحافیوں میں ایک خاور نعیم ہاشمی ہیں جنہیں کوڑے لگے تھے۔ اس دن کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’وہ میرا جدو جہد کا زمانہ تھا۔ کچھ عرصہ ہی ہوا تھا میں جرنلزم سے وابسطہ ہوا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اخبار مساوات میں کام کر رہا تھا۔ مساوات سمیت تیس سے زیادہ اخبارات اور جرائد کی بندش کے خلاف جو پی ایف یو جے نے تحریک چلائی تھی میں اس کا ایک مجاہد تھا۔ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے میرے تین ساتھیوں سمیت کوڑوں کی سزا دی گئی تھی۔‘

جن چار صحافیوں کو کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی ان میں مسعود اللہ خان، ناصر زیدی، اقبال جعفری اور خاور نعیم ہاشمی شامل تھے۔ تین کو تو کوڑے لگائے گئے لیکن مسعود اللہ خان کو معذوری کے باعث ڈاکٹر کے کہنے پر کوڑے نہیں لگائے گئے۔

ضیاء دور میں سرِ عام کوڑوں کی سزا دی جاتی تھی

خاور نعیم ہاشمی کہتے ہیں کہ ’رات آٹھ بجے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے ہمیں کوڑوں کی سزا ہوئی اور بیس منٹ کے بعد اس پر عمل کر دیا گیا تھا۔ وہ منظر ہمیں آج بھی یاد ہے جب ہمیں جیل میں ایک چھوٹے سے کمرے سے باری باری باہر بلایا جاتا تھا اور الف ننگا کر دیا جاتا تھا۔ اور آپ کے پاس اس وقت ننگا ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس وقت وردی پوش وہاں موجود تھے۔ ہمارے ہاتھوں پیروں کو باندھ دیا گیا تھا اور ہمارا تماشہ دیکھا جا رہا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم چاروں ساتھی ایک دوسرے کی بےبسی پر خون کے گھونٹ پی رہے تھے۔ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ لیکن کوڑوں کی سزا اور کوڑے برداشت کرنا ہمارا عزم۔ ہمیں اگر شرم آئی تھی تو کپڑے اتارنے پر آئی تھی۔ وہ شرم کی کیفیت ہماری شرمندگی کی کیفیت نہیں تھی وہ ہماری جرات اور بہادری کی کیفیت تھی۔‘

ہاشمی کہتے ہیں کہ دو آدمی باری باری ایک فرلانگ سے دوڑ کر انہیں کوڑے لگاتے تھے۔

’ہم بالکل شرمسار نہیں ہوئے تھے بلکہ ہم چاروں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خاموشی سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم اس آمریت کے خلاف ننگے ہونے کو تیار ہیں، کوڑے کھانے کو تیار ہیں۔‘

ہاشمی کہتے ہیں کہ انہوں نے کوڑے کھانے کے بعد سٹریچر پر جانے کی بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دی تھی اور جیل کے سپرنٹینڈنٹ نے انہیں کہا تھا کہ اگر ہم لوگ سٹریچر پر نہیں جائیں گے تو فوجی جنتا ان سے ان کا عہدہ چھین لے گی۔

آخر میں ہاشمی کہتے ہیں کہ صحافی جہاں تیس سال پہلے تھے اب بھی وہیں کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کا ثمر اس انڈسٹری کے مالکان کھا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
صحافت آج بھی پا بہ زنجیر
12 May, 2005 | پاکستان
’صحافت آج بھی قید ہے‘
12 May, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد