جمہوریت تو آگئی لیکن امن نہیں آیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے بعد پاکستانی قوم کو اس سے قبل تقریباً ایک برس سے جاری یکے بعد دیگرے خودکش حملوں سے قدرے آرام ملا۔ امید پیدا ہوئی کہ شاید حکومت کی تبدیلی سے حالات بھی بدلیں گے۔ دہشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ کا مذاکرات کے ذریعے حل ممکن ہوگا اور شدت پسند اپنے ہتھیار پھینک کر حکومت کے شانہ بشانہ اپنے پسماندہ علاقوں کی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔ لیکن اسلام آباد کے تازہ خودکش حملے کے بعد یہ ایک خواب دکھائی دے رہا ہے۔ حالات میں بہتری کی بجائے ابتری ہی آتی جا رہی ہے۔ حکومت باجوڑ اور سوات میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اپنی کارروائیاں ’فل گیر‘ میں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب شدت پسند بھی اپنی کارروائیوں میں مزید شدت لاتے جا رہے ہیں۔ میریٹ حملے میں ابتدائی اندازوں کے مطابق سینکڑوں کلو گرام دھماکہ خیز مواد کا استعمال اس کی بڑی دلیل ہے۔ لاہور میں ایف آئی اے کی بلڈنگ پر حملے کے بعد سے شدت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد بھی دل کھول کر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ افطاری کو ابھی تقریبا ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ آٹھ بجے کے لگ بھگ گھر کی کھڑکیاں ایسی لرزیں کہ جیسے مکان کے باہر ہی کوئی شدید دھماکہ ہوا ہے۔ پھر ایف الیون جیسے دور علاقے سے بھی ٹیلیفون آیا کہ وہاں بھی اسی شدت سے دھماکہ محسوس کیا گیا۔ پھر خبر آئی کہ دھماکہ اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میریٹ کے باہر ہوا ہے۔ یہ ہوٹل عرصہ دراز سے غیرملکیوں میں مقبول ہونے کی وجہ سے شدت پسندوں کے نشانے پر تھا۔ اس پر اس سے قبل بھی حملے ہوئے لیکن کچھ زیادہ جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔ تاہم اس مرتبہ حملہ آوروں نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کہ ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہو۔ اس میں وہ یقینا بڑی حد تک اس مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں ہوٹل میں لگی آگ نے ہوٹل کے بڑے حصے کو راکھ کر دیا ہے۔ ہوٹل کے قریب ترین ہسپتال پولی کلینک کا رخ کیا تو ہلاک و زخمی افراد کے لواحقین کو پریشان بھاگتے پایا۔ افراتفری کا سما تھا۔ ہسپتال انتظامیہ خون کے عطیات کے لیئے اپیلیں کی جا رھی تھیں۔ صحافیوں کو رشتہ دار اندر گھسنے کی کوشش میں لگے نظر آئے جبکہ ہسپتال انتظامیہ انہیں باہر رکھنے کی ناکام کوششیں کرتی رہی۔ ہسپتال کے عملے نے زخمیوں کو بچانے کو ترجیح دی اور ماضی کی طرح صحافیوں کو معلومات فراہم کرنے کے انتظام سے انکار کیا۔ یہاں صرف پانچ لاشیں اور تیس سے زائد زخمی لائے گئے۔ زخمیوں کی اکثریت شیشہ یا لوہے کے ٹکڑے لگنے سے متاثر ہوئے تھے۔ میریٹ کے بلکل سامنے فرنٹیئر ہاوس کے ایک ملازم عنایت اللہ بھی سر پر پٹی کروا کر ہسپتال سے نکل رہے تھے کہ ان سے پوچھا آخر ہوا کیا۔ ’ہم فرنٹئر ہاوس میں ڈیوٹی پر تھے چائے دے رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا۔ اس سے وہاں موجود اکثر لوگ چھرے لگنے سے زخمی ہوگئے۔ عمارت کے تمام شیشے ٹوٹ گئے۔‘ البتہ زیادہ لاشیں اور زخمی شہر کے سب سے بڑے ہسپتال پمز لیجائی گئیں۔ وہاں بھی پہنچا تو وہی حال۔ روتے چیخے رشتہ دار کا رش اور زخمیوں کو بچانے میں جتے ڈاکٹر۔ زخمی دھماکے کے دو گھنٹے بعد بھی ایک ایک کر کے لائے جا رہے تھے۔ بعض رشتہ دار اپنے زخمی کو قدرے بہتر علاج کے لیئے الشفاء جیسے نجی ہسپتال بھی لے جا رہے تھے۔ مشیر داخلہ رحمان ملک سکیورٹی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پہلے پولی کلینک اور بعد میں پمز زخمیوں کی عیادت کے لیئے پہنچے۔ پولی کلینک میں تو وہ رش کی وجہ سے گاڑی سے بھی نہ اتر سکے تاہم دروازے سے نکل کر انہوں نے چیخ چیخ کر کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ دہشت گردی کا واقع تھا اور حکومت اس میں ملوث عناصر کو کیفر کردار پہنچا کر ہی دم لے گی۔ نو منتخب صدر نے اپنی تقریر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر قومی اتفاق رائے کے لیئے پارلیمان کے بند کمرہ اجلاس کی تجویز دی لیکن فوجی کارروائی بند کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ یہ حملہ اسی ناامیدی کا شاید نتیجہ تھا۔ صدر کو وہ ان کے انتخاب کے روز پشاور میں زنگلی چیک پوسٹ اور پارلیمان سے خطاب کے موقع پر میریّٹ پر حملے سے واضع پیغامات بھیج چکے ہیں۔ ہسپتال سے واپسی پر یہی سوچ میں ڈوبا رہا کہ شاید ملک میں جمہوریت تو آگئی لیکن ابھی امن نہیں آیا۔ |
اسی بارے میں عزم برقرار رہے گا: آصف زرداری20 September, 2008 | پاکستان وزیرستان : حملہ چھ افراد ہلاک20 September, 2008 | پاکستان میریئٹ ہوٹل خود کش حملہ، چالیس ہلاک، دو سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||