BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 September, 2008, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میریئٹ ہوٹل خود کش حملہ، چالیس ہلاک، دو سو سے زائد زخمی

میریئٹ ہوٹل دھماکےمیں درجنوں افراد کےزخمی اور ہلاک ہونےکا خدشہ ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے ایک خود کش بم حملے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

تباہ شدہ میریئٹ ہوٹل کے باہر سے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ہوٹل کے سکیورٹی بیریئر سے بارود سے بھرا ٹرک ٹکرایا گیا جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر خوفناک تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ہوٹل کی گیس پائپ لائن پھٹنے سے عمارت میں آگ لگ گئی جس نے دیکھتے ہی پورے ہوٹل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اسلام آباد کے آئی جی پولیس اصغر رضا گردیزی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس حملے میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ داخلی سکیورٹی امور کے لیے وزیراعظم کے مشیر رحمان ملک نے دھماکے کے نتیجے میں اب سے کچھ دیر پہلے تک چونتیس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک سو اٹھہتر بتائی ہے جو کہ ان کے مطابق صرف دو ہسپتالوں سے اطلاعات ہیں۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں۔ نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق پمزہسپتال میں ہلاک ہونے والوں کی جو فہرست لگائی گئی ہے اس میں ایک امریکی شہری روڈ لوف کا نام بھی شامل ہے جس کی لاش امریکی سفارتخانے کے حکام لے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایک زخمی جرمن باشندے کو پاکستان نیوی کے اہلکار نیول ہسپتال لے گئے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق دھماکے کے بعد تیئیس لاشیں اور ایک سو پانچ زخمیوں کو پمز لایا گیا۔ جن افراد کی لاشیں پمز لائی گئیں ان میں ایک امریکی شہری اور ایف سی کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں بھی چار جرمن اور ایک سعودی شہری ہیں۔ پمز کے ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان زخمیوں میں سے تیس کی حالت نازک ہے۔

پولی کلینک اسلام آباد میں پانچ مقامی باشندوں کی لاشیں اور ایک سو گیارہ زخمیوں کو لایا گیا۔تاہم اس وقت وہاں زخمیوں کی تعداد انہتر ہے جن میں جرمنی، مراکش اور شام سے تعلق رکھنے والے تین باشندے بھی شامل ہیں۔

سی ڈی اے ہسپتال اسلام آباد میں کے شعبۂ حادثات کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ظہور کے مطابق ان کے پاس چھ لاشیں اور بائیس زخمی لائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں سے پانچ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص جو حلیے سے سکیورٹی گارڈ معلوم ہوتا ہے کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔

سی ڈی اے ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں بھی دو غیر ملکی شامل ہیں جن کا تعلق امریکہ اور لبنان سے ہے۔ ان دونوں زخمیوں کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں تیس فِٹ گہرا گڑھا بن گیا۔ مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ انہوں نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ دھماکے لیے تقرباً ایک ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔پاکستان آرمی نے ہوٹل کو گھیرے میں لے کر دھماکے سے بنے گڑھے سے نمونے اکٹھے کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ رینجرز نے حصار بنا لیا ہے۔

پاکستان کے سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے جائے وقوع کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ دھماکہ خود کش حملہ تھا جبکہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اسلام آباد پر حملہ تھا جس کو بلاشبہ پاکستان کا نائن الیون قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ ماہ رمضان میں اس طرح کا واقعہ کہیں سے بھی اسلام کی عکاسی نہیں کرتا۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق دھماکے کے کئی گھنٹے بعد بھی میریئٹ ہوٹل کی تقریباً ساری عمارت آگ کی لپیٹ میں ہے۔دھماکے کی وجہ سے لگنے والی آگ کے شعلے دور دور تک دیکھے جا سکتے ہیں اور پولیس نے وارننگ دی ہے کہ لوگ میریئٹ ہوٹل کی عمارت کے قریب نہ جائیں کیونکہ اس کے حصے گر سکتے ہیں۔

میریئٹ ہوٹل کے ملازم سلطان نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ ہوٹل میں کل تین سو پندرہ کمرے ہیں جن میں سے نوے غیرملکیوں کے پاس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کا پچھہتر فیصد حصہ آگ کی لپیٹ میں ہے۔

سلطان کے مطابق آگ کے پھیلنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ دھماکے کی وجہ سے ہوٹل کی گیس کی لائن پھٹ گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی زخمی ان کمروں میں موجود ہیں تو ان کا زندہ بچنا کافی مشکل ہے۔

زخمی غیر ملکی
زخمی غیر ملکی
 امریکی سفارت خانے کے ترجمان لو ٹفنر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام امریکی سفارتکار محفوظ ہیں۔ جبکہ برطانوی ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے تین اہلکار اور ان کے دو رشتہ دار زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں سعودی سفیر عواض العسیری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے سولہ افراد اس علاقے میں موجود تھے جن میں چار سے چھ افراد لاپتہ ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے آرمی، ائر فورس، نیوی، سول ڈیفنس، سول ایوی ایشن کے علاوہ مری اور واہ کینٹ سے بھی فائر بریگیڈ بلا لیے ہیں جنہوں نے ہوٹل کو گھیرے میں لے لیا ہے اور آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سکواڈرن لیڈر ادریس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اندر کا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ آگ نہیں بجھ سکتی اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اندر کا درجہ حرارت کم ہو۔ ان کے مطابق پہلے تو کچھ افراد ہوٹل کے اندر کھڑکیوں میں نظر آ رہے تھے تاہم اب نظر نہیں آرہے۔ سکواڈرن لیڈر ادریس کا کہنا ہے کہ اندر کے درجہ حرارت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ممکن ہے کہ وہ اندر ہی ہلاک ہو گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے اندر غیر ملکی پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی سفارت خانے کے ترجمان لو ٹفنر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام امریکی سفارتکار محفوظ ہیں۔ جبکہ برطانوی ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے تین اہلکار اور ان کے دو رشتہ دار زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں سعودی سفیر عواض العسیری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے ’سولہ افراد اس علاقے میں موجود تھے جن میں چار سے چھ افراد لاپتہ ہیں‘۔

دھماکے کے ایک عینی شاہد ارسلان نے بتایا کہ وہ اپنی گاڑی میں ہوٹل کے پاس سے گزر رہے تھے کہ ایک اینٹوں سے لدا ٹرک ان کے پاس سے گزرا اور ڈرائیور نے اس ٹرک کو ہوٹل کی عمارت سے ٹکرا دیا۔

جب یہ دھماکہ ہوا اس وقت افطاری کا وقت تھا اور کافی لوگ ہوٹل میں موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت تقریباً 300 کے قریب افراد ہوٹل میں افطاری کر رہے تھے۔

ہوٹل کے ایک ملازم محمد سلطان نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ ہوٹل کی لابی میں تھا جب ایک بڑا دھماکہ ہوا اور وہ زمین پر گر پڑا۔ ’مجھے نہیں معلوم یہ کیا تھا لیکن ایسا لگا کہ دنیا ختم ہوگئی۔‘

میریئٹ کے کیفے میں کام کرنے والے ایک ویٹر نے بتایا کہ وہ کیفے میں کام کر رہے تھے کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد اندھیرا چھا گیا اور چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ دھماکے کی وجہ سے ہوٹل کا ایک حصہ پوری طرح آگ کی لپیٹ میں آیا اور آگ بڑی تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔

پمز کے باہر چسپاں کی جانے والی ہلاک شدگان کی لسٹ کا عکس

میریٹ ہوٹل کے مالک صدر الدین ہاشوانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹل کے اندر موجود لوگوں کو پچھلے دروازے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہوٹل بڑا مضبوط ہے لیکن دھماکہ بہت زور دار تھا۔میریئٹ ہوٹل پانچ منزلہ عمارت ہے جس میں دو سو اٹھاون کمرے اور بتیس سوئٹس، جبکہ چودہ میٹنگ روم ہیں۔

دھماکے شدت سے ہوٹل کے قریب واقع پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت کے قریب ہی پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس، ایوانِ صدر اور بلوچستان ہاؤس جیسی اہم عمارتیں ہیں۔ یہ سکیورٹی کے لحاظ سے حساس علاقہ ہے اور یہاں ججوں اور وزیروں کی رہائش گاہیں بھی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق دھماکے سے میریئٹ ہوٹل کے ساتھ ہی واقع پنجاب ہاؤس اور سندھ ہاؤس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس کے ساتھ ہی منسٹرز کالونی اور ججز کالونی میں بھی نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سرحد ہاؤس کی دیوار بھی منہدم ہوگئی ہے اور شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں جب کہ کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ بلوچستان ہاؤس میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ میریئٹ کے عقب میں واقع گلشن جناح کی رہائشی کالونی کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔

دوسری طرف یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پرائم منسٹر سیکرٹیریٹ میں افطار ہو رہی تھی۔ جہانگیر بدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس افطار میں صدر، وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے وزیر اعلٰی اور گورنر کے علاوہ کابینہ کے ممبران بھی موجود تھے۔

دھماکے کی وجہ سے میریئٹ ہوٹل کے قریب گڑھا بن گیا ہے

طالبانپاکستان لپیٹ میں
صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقی بھی متاثر
واہ: تدفین کے لیے تابوتاگست میں تشدد
بائیس دن، پانچ حملے، ایک سو انیس ہلاک
امریکی فوجیامریکہ ’تنہا‘ رہ گیا
پاکستان پر حملے، پالیسی کی پسپائی
بلوچ جنگجواُنیس فیصد
بلوچستان میں دہشت گردی میں اضافہ
پولیس اہلکارآبپارہ خودکش حملہ
اسلام آباد دھماکے کے بعد تفتیش: تصاویر میں
فائل فوٹوسقوطِ پشاور؟
پشاور طالبان کے گھیرے میں
زخمی پولیس اہلکارعینی شاہد
کان بند ہوگئے، زمین ہلتی ہوئی ۔۔۔
اسی بارے میں
’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘
15 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد