سوات مزید آٹھ پولیس اہلکار رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان نے یرغمال بنائے جانے والے پچیس پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بعد جمعرات کو آٹھ مزید اہلکاروں کو بھی آزاد کردیا ہے۔ دوسری طرف ضلع دیر میں قومی لشکر اور مسلح جنگجؤوں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کے دوران دو مبینہ خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکہ سے اڑا دیا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے رمضان المبارک کے احترام میں گزشتہ شب یرغمال بنائے جانے والے آٹھ پولیس اہلکاروں کو رہا کردیا ہے جبکہ باقی پانچ اہلکاروں کو بہت جلد آزاد کردیا جائے گا۔ کچھ عرصے قبل ضلع دیر سے اغوا ہونے والے دو چینی انجیئروں کی رہائی کے بارے میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چینی سفارت خانے کے نمائندے سے بات چیت کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کے بقول ان چینی انجینئروں کی آزادی کے حوالے سےحکومتِ پاکستان کو طالبان کے بعض مطالبات ماننے ہونگے۔ طالبان نے تقریباً دو ماہ پہلے دیولئی کے علاقے سے ایک چیک پوسٹ پر حملے کے دوران یرغمال بنائے جانے والے اڑتیس اہلکاروں میں سے پچیس کو چار روز قبل رمضان المبارک کے احترام میں آزاد کردیا تھا۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں جمعرات کی صبح مقامی لوگوں پر مشتمل ایک لشکر نے غیر مقامی مسلح افراد کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں دو مبینہ خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اپر دیر کے ضلعی رابطہ آفسر خورشید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح اپر دیر سے تقریباً اسی کلومیٹر دور نہاگ درئی کے مسکاڑی علاقے میں پیش آیا ہے۔ ان کے بقول ضلع سوات میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے گٹ پیوچار کے علاقے سے متصل نہاگ درہ کے مقام پر مقامی لوگوں نے تین مسلح افراد کو دیکھا اور انہیں خود کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا لیکن مسلح افراد نے انکار کر دیا۔ ان کے بقول اس موقع پر دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جس کے دوران دو مبینہ خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکہ کے ساتھ اڑا دیا جبکہ ان کا تیسرا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ان کے مطابق دھماکے میں مقامی لوگوں کو کسی قسم کاکوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ان کے بقول مقامی لشکر نےفرار ہونے والے شخص کی تلاش شروع کردی ہے اور گرفتاری کے بعد ہی مزید تفصیلات سامنے آسکتی ہیں۔
خورشید خان نے مزید کہا کہ نہاگ درہ کے عوام نے ایک جرگہ میں فیصلہ کیا ہے کہ علاقےمیں مبینہ عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کو علاقے میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس فیصلے کے بارے میں انہوں نے طالبان کو آگاہ بھی کردیا تھا کہ وہ ان کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی ضلع دیر کے ایک دور دراز علاقے میں تراویح کےدوران ایک مسجد پر مسلح افراد نے دستی بموں سے حملہ کیا تھا جس میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں سوات میں پچیس سکیورٹی اہلکار رہا15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ: طالبان نے اہلکار اغوا کر لیے19 November, 2007 | پاکستان 25 طالبان کے بدلے 200 سپاہی بازیاب04 November, 2007 | پاکستان مقامی طالبان کی حکومت کو دھمکی04 January, 2008 | پاکستان طالبان کا حملہ، 5 ہلاک، 21 اغواء02 October, 2007 | پاکستان طالبان کی طرف سے دعوے کی تردید29 December, 2007 | پاکستان فوجیوں کواغواء کیا: مقامی طالبان24 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||