میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر زوردار بم دھماکہ ہوا ہے جس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے اور ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ دھماکےمیں چالیس سے زائد افراد ہلاک اور سو سےزآئد زخمی ہوئے ہیں۔ تباہ شدہ میریئٹ ہوٹل کے باہر سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ایک ٹرک نے سکیورٹی کے بیریئر سے بارود سے بھرا ٹرک ٹکرا دیا جس سے زور دار دھماکہ ہوا۔ میریٹ ہوٹل تقریباً سارا ہی آگ کی پھیٹ میں ہے اور کئی کمروں سے لوگ کھڑکیاں کھول بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میریئٹ ہوٹل کے ملازم سلطان نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ ہوٹل میں کل تین سو پندرہ کمرے ہیں جن میں سے نوے غیرملکیوں کے پاس ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس وقت تک ہوٹل کا پچہتر فیصد تک آگ لی لپیٹ میں ہے۔ سلطان کے مطابق آگ کے پھیلنے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ دھماکے کی وجہ سے ہوٹل کی گیس کی لائن پھٹ گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر کوئی زخمی ان کمروں میں موجود ہیں تو ان کو بھی زندہ بچانا کافی مشکل ہوگا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے میریٹ ہوٹل کی آگ اور اندر پھنسے ہویے لوگوں کو نکالے کے لیے پاک فوج کی مدد حاصل کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے اندر غیرملکی لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی سفارت خانے کے ترجمان لو ٹفنر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام امریکی سفارتکار محفوظ ہیں۔ جبکہ اسلام آباد میں سعودی سفیر عواض العسیری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے ’سولہ افراد اس علاقے میں موجود تھے جن میں چار سے چھ افراد لاپتہ ہیں۔‘ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں تیس فِٹ گڑھا بن گیا ہے۔ داخلی سکیورٹی امور کے لیے پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے بتایا کہ انہوں نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ دھماکے لیے ایک ہزار کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاع کے مطابق دھماکے میں درجنوں افراد کے زخمی اور ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اس کے فوٹوگرافر نے جائے وقوع پر کم سے کم بیس لاشیں دیکھی ہیں۔
ایک عینی شاہد ارسلان نے بتایا کہ وہ اپنی گاڑی میں ہوٹل کے پاس سے گزر رہے تھے کہ ایک اینٹوں سے لدا ٹرک ان کے پاس سے گزرا اور ڈرائیور نے اس ٹرک کو ہوٹل کی عمارت سے ٹکرا دیا۔ جب یہ دھماکہ ہوا افطاری کا وقت تھا اور کافی لوگ ہوٹل میں موجود تھے۔ ہوٹل کے ایک ملازم محمد سلطان نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ ہوٹل کی لابی میں تھا جب ایک بڑا دھماکہ ہوا اور وہ زمین پر گر پڑا۔ ’مجھے نہیں معلوم یہ کیا تھا لیکن ایسا لگا کہ دنیا ختم ہوگئی۔‘ میریٹ کے کیفے میں کام کرنے والے ایک ویٹر نے بتایا کہ وہ کیفے میں کام کر رہے تھا کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد اندھیرا چھا گیا اور چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ دھماکے کی وجہ سے ہوٹل کا ایک حصہ پوری طرح آگ کی لپیٹ میں آیا اور آگ بڑی تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق پِمز ہسپتال میں ڈاکٹر خواجہ وسیم نے بتایا کہ وہاں لائے جانے والے ایک سو چار زخمیوں میں چار جرمن اور ایک سعودی شہری میں ہیں۔ میریٹ ہوٹل کے مالک صدر الدین ہاشوانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹل کے اندر موجود لوگوں کو پچھلے دروازے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہوٹل بڑا مضبوط ہے لیکن دھماکہ بہت زوردار تھا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت کے قریب ہی پارلیمنٹ ہاؤس، پرائم منسٹر ہاؤس، پریسڈنٹ ہاؤس، بلوچستان ہاؤس جیسی اہم عمارتیں واقع ہیں۔ یہ سکیورٹی کے لحاظ سے حساس علاقہ ہے اور یہاں ججوں اور وزیروں کی رہائش گاہیں ہیں۔ ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق اسلام آباد میں پولی کلینک ہسپتال میں دو لاشیں لائی گی ہیں جب کہ اٹھائیس افراد زخمی۔ پمز ہسپتال میژ چار لاشیں اور بہتر زخمیں لائے گئے ہیں۔ بلوچستان ہاؤس کے ایک ملازم فیض الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان ہاؤس سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ میریئٹ کے سامنے ایک ٹرک کو آگ لگی ہوئی حالت میں پایا۔ ’میں واپس مڑا ہوں، تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بڑے بڑے پتھر گرے۔ ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق میریئٹ ہوٹل کے ساتھ ہی واقع پنجاب ہاؤس اور سندھ ہاؤس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس کے ساتھ ہی منسٹرز کالونی اور ججز کالونی میں بھی نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد ہاؤس کی دیوار بھی منہدم ہوگئی ہے اور شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں جب کہ کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ بلوچستان ہاؤس میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ میریٹ کے عقب میں واقع گلشن جناح کی رہائشی کالونی کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے بعد ہوٹل کی گیس پائپ لائن پھٹ گئی جس سے آگ اور بھڑک اٹھی۔ گیس پائپ لائن کو اسلام آباد انتظامیہ نے بند کردی ہے تاکہ آگ پر قابو پایا جا سکے۔ پولیس نے وارننگ دی ہے کہ لوگ میریئٹ ہوٹل کی عمارت کے ارد گرد نہ جائیں کیونکہ اس کے حصے گرسکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پرائم منسٹر سیکریٹیریٹ میں افطار ہو رہی تھی جب یہ دھماکہ ہبا۔ جہانگیر بدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس افطار میں صدر، وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے وزیر اعلٰی اور گورنر کے علاوہ کابینہ کے ممبران بھی موجود تھے۔ ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ اسلام آباد کی فائر بریگیڈ کے پاس سہولت موجود نہیں ہے کہ وہ ہوٹل کے پانچویں منزل پر لگی آگ بجھائیں۔ اس لیے آرمی کی انجینیئرنگ کور کی مدد مانگی گئی ہے۔ ہوٹل میں ابھی بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ آصف فاروق کے مطابق آرمی اور ایئر فورس کے انجینیئرز اور آگ بجھانے والے عملے کے افراد جائے وقع پر پہنچ چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ آگ کی وجہ سے ہوٹل کی عمارت کے اندر کا درجۂ حرارت انتہائی درجہ تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے اسے بجھانے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اندر کوئی ہے بھی تو اس کے بچنے کا امکان کم ہی ہے۔
|
اسی بارے میں ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا12 July, 2008 | پاکستان کراچی حملہ: ملزم کو سزائے موت 05 March, 2008 | پاکستان میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان سوات مزید آٹھ پولیس اہلکار رہا18 September, 2008 | پاکستان دہشت گرد کے خلاف جنگ: سرحد کی دہلیز پر10 September, 2008 | پاکستان بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد17 April, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||