اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتے کے روز میریٹ ہوٹل میں ہونے والا بم دھماکہ اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملوں کا دسواں حملہ تھا اور اس حملے سمیت ان حملوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا خودکش حملہ انیس نومبر انیس سو پچانوے میں اسلام آباد میں قائم مصر کے سفارتخانے میں ہوا۔ مصری حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک سفارتخانے کے احاطے میں اڑا دیا جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ اسلام آباد میں دوسرا خودکش حملہ ستائیس مئی دو ہزار پانچ کو اسلام آباد میں بری امام کے مزار میں خود کش حملہ ہوا۔ اس سانحہ میں لگ بھگ بیس افراد ہلاک ہوئے۔ چھبیس جنوری دو ہزار سات کو وفاقی دارالحکومت میں میریٹ ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد دو ہزار سات ہی کو چھ فروری کو اسلام آباد ائرپورٹ کے احاطے میں ایک اور خود کش حملہ ہوا جس میں صرف حملہ آور ہلاک ہوا جبکہ تین سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ دو ہزار سات ہی میں اٹھارہ جولائی کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب خود کش حملے میں بیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد سے کچھ دیر قبل ہوا۔ ابھی اسلام آباد کے رہائشی لال مسجد آپریشن کے ذہنی دباؤ سے نکلے نہ تھے کہ ستائیس جولائی دو ہزار سات کو مسجد کو دوبارہ کھولا گیا اور ایک بار پھر ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اس ہنگامے کا اختتام لال مسجد کے قریب آبپارہ مارکیٹ میں خود کش حملے سے ہوا جس میں سات پولیس اہلکاروں سمیت پندرہ افراد مارے گئے۔ پندرہ مارچ دو ہزار آٹھ کو اسلام آباد کے علاقے سپر مارکیٹ کے قریب سنیچر کی شب ایک غیرملکی ریستوراں میں دھماکے کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور کم از کم پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ دو جون دو ہزار آٹھ کو اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر کار بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہو گئے ہیں۔ چھ جولائی دو ہزار آٹھ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خود کش حملے میں کم از کم انیس افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کی برسی کے موقع پر علماء کنونشن کا انعقاد ہو رہا تھا اور اس حوالے سے شہر بھر میں سکیورٹی کا خصوصی بندوبست کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’قیامت خیز منظر‘ کا آنکھوں دیکھا حال20 September, 2008 | پاکستان میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں بم دھماکہ، پانچ ہلاک19 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، ایک اور زخمی ہلاک20 September, 2008 | پاکستان ڈی آئی خان دھماکہ، ایک ہلاک17 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ: دھماکہ خیز مواد برآمد16 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||