کوئٹہ دھماکہ، ایک اور زخمی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں بلیلی کے علاقے میں واقع کرک مدرسے میں جمعہ کی شام ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ ہوگئی ہے جبکہ اس واقعے میں گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ جس مدرسے میں دھماکہ ہوا اسے’ آغا جان کے مدرسے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ شہر سے قریباً آٹھ کلومیٹر دور بلیلی کے مقام پر واقع ہے۔ دھماکہ مدرسے کے منتظم آغا جان کے کمرے میں ہوا اور مدرسے کے ایک مدرس نصیب اللہ کے مطابق آغا جان بھی اس دھماکے میں زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاحال یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکے کی وجہ کیا تھی۔ کوئٹہ پولیس کے آئی جی آصف نواز کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں سے لگتا ہے کہ دھماکے میں آتشگیر مادہ استعمال کیا گیا تاہم یہ خودکش حملہ نہیں تھا۔ دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد دینی مدرسے کے طالبعلم ارو اساتذہ تھے اور زخمیوں کو سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس لایا گیا۔ جمعہ کو سول ہسپتال میں موجود ڈاکٹر جعفر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس دو لاشیں اور سات زخمی لائے گئے ہیں جبکہ بولان میڈیکل کمپلکس میں ایک لاش اور ایک زخمی کو لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ کچھ لاشوں کی حالت انتہائی خراب تھی جنھیں ہسپتال نہیں لایا جا سکتا تھا اس لیے انھیں ورثا ساتھ لے گئے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ س واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس دھماکے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں بم دھماکہ، پانچ ہلاک19 September, 2008 | پاکستان بلوچستان:پانچ سرکاری ملازم قتل19 August, 2008 | پاکستان گیس لائن کو دھماکے سے اڑا دیا 23 August, 2008 | پاکستان بلوچستان میں یومِ آزادی پر یومِ سیاہ12 August, 2008 | پاکستان بلوچ تنظیموں کی فائر بندی 01 September, 2008 | پاکستان عورتوں کا قتل، نصیر آباد میں خاموشی09 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||