BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 August, 2008, 09:08 GMT 14:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان:پانچ سرکاری ملازم قتل

بلوچستان پولیس (فائل فوٹو)
پولیس نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے پانچوں افراد سرکاری ملازمین ہیں۔(فائل فوٹو)
بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں چھتر کے قریب پانچ سرکاری ملازمین کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

چھتر کا علاقہ ضلع نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ آج صبح کھیتی باڑی کے لیے جانے والے ایک مقامی شخص نے اطلاع دی ہے کہ ویرانے میں پانچ لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ ان افراد کی شناخت کے لیے پولیس روانہ کر دی گئی ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے پانچوں افراد سرکاری ملازمین ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ کوئی تین ہفتے پہلے تحصیل میونسپل افسر، ایک سب انجینیئر اور دیگر ملازمین کو نامعلوم افراد نے علاقے کے دورے کے دوران اغوا کیا تھا اور یہ لاشیں انہی ملازمین کی ہیں۔

دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سرکاری اہلکار بلوچ مزاحمت کاروں کی مخبری کیا کرتے تھے۔

سرباز بلوچ کے مطابق گزشتہ روز ڈیرہ بگٹی میں لنجو صغاری کے علاقے میں کچھی کینال پر کام کرنے والے ایک بلڈوزر کو دھماکے سے اڑایا گیا تھا اور کل رات سوئی میں راکٹ داغے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
شپ بریکنگ، چیئرمین ہلاک
21 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد