بلوچستان:پانچ سرکاری ملازم قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں چھتر کے قریب پانچ سرکاری ملازمین کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ چھتر کا علاقہ ضلع نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ آج صبح کھیتی باڑی کے لیے جانے والے ایک مقامی شخص نے اطلاع دی ہے کہ ویرانے میں پانچ لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ ان افراد کی شناخت کے لیے پولیس روانہ کر دی گئی ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے پانچوں افراد سرکاری ملازمین ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ کوئی تین ہفتے پہلے تحصیل میونسپل افسر، ایک سب انجینیئر اور دیگر ملازمین کو نامعلوم افراد نے علاقے کے دورے کے دوران اغوا کیا تھا اور یہ لاشیں انہی ملازمین کی ہیں۔ دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سرکاری اہلکار بلوچ مزاحمت کاروں کی مخبری کیا کرتے تھے۔ سرباز بلوچ کے مطابق گزشتہ روز ڈیرہ بگٹی میں لنجو صغاری کے علاقے میں کچھی کینال پر کام کرنے والے ایک بلڈوزر کو دھماکے سے اڑایا گیا تھا اور کل رات سوئی میں راکٹ داغے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: چھ ایف سی اہلکار ہلاک 21 July, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں دو ہلاک بارہ زخمی19 July, 2008 | پاکستان کوئٹہ فائرنگ: ایک ہلاک تین زخمی01 July, 2008 | پاکستان شپ بریکنگ، چیئرمین ہلاک21 May, 2008 | پاکستان کوئٹہ:پولیس کی گاڑی پر حملہ13 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||