BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 July, 2008, 17:27 GMT 22:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: چھ ایف سی اہلکار ہلاک

لوگ نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے
بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں سرچ آپریشن کے تیسرے روز کوئٹہ میں پہلی بار فرنٹئر کور نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ایف سی کے ترجمان شاہد محمود کے مطابق کہ سکیورٹی فورسز نے فراریوں کے دو کیمپ تباہ کرکے بڑے پیمانے پر مزاحمت کاروں کو جانی نقصان پہنچایا ہے اس کارروائی میں انہوں نے صرف چھ اہلکار ہلاک اور نو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف سرچ آپریشن کے تیسرے روز بم دھماکوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ چھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت8 زخمی ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی۔

فرنٹیئر کور نے کوئٹہ میں آپریشن کے دوران اپنےاہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے اور بڑے پیمانے پر بلوچ مزاحمت کاروں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف سرچ آپریشن کے تیسرے روز آپریشن کا دائرۂ ڈیرہ بگٹی اور لوٹی شہر کے نواحی علاقوں تک وسیع کردیا ہے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی ہیں۔

ڈیرہ بگٹی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کو گرفتار ہونے والے بلوچ مزاحمت کاروں میں نواب بگٹی کے تین اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب پیر کو صحبت پور میں بلوچ مزاحمت کاروں نے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک راہگیر ہلاک ہوا ہے ۔

اسی طرح دشت گوران کے علاقے میں ایف سی کے قافلے پر حملے میں ایف سی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان سر باز بلوچ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کو جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

نقل مکانی کرنے والوں کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے بھی جنہیں وہ محفوظ مقامات تک لے جانا چاہتے ہیں

ڈیرہ بگٹی سے ملحقہ ضلع جعفرآباد سے مقامی صحافی دھنی بخش مگسی کے مطابق سرچ آپریشن کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ڈیرہ بگٹی کے پہاڑی علاقوں سے نقل مکانی شروع کردی ہے لیکن علاقے کی ناکہ بندی کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈیرہ بگٹی کے سرچ آپریشن پر بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی ڈیرہ بگٹی کے ضلعی صدر شیر محمد بگٹی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹروں اور جنگی جہازوں کا بھی استعمال کیا ہے۔ جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر عام لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں جاری آپریشن کے خلاف پیر کو صوبے کے مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ میں بلوچ بچوں نے کفن پوش مظاہرے کیا جس کے دوران عالمی برادری سے بلوچوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

اس سے پہلے بھی آپریشن کے دوران لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں

واضح رہے کہ پاکستان میں 18فروری فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد پہلی بار بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف اتنی شدید فوجی کارروائی ہوئی ہے۔

انسپکٹر جنرل فرنٹئر کور بلوچستان میجر جنرل سلیم نواز نے بھی ایف سی کے اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی میں شرپسندوں کے بھی8 افراد ہلاک ہوگئے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے آئی جی ایف سی نے کہا کہ اس کارروائی کو آپریشن کہنا بالکل غلط ہے کیونکہ سب سے پہلے شرپسندوں نے ہماری سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے بعد فورسز کو جوابی کارروائی کرنی پڑی۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران شرپسندوں کے دو فراری کیمپوں کو تباہ کرکے وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔

آئی جی ایف سی نے اس بات کی تردید کی کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بے گناہ افراد مارے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اوچ کے علاقے میں سول آبادی بالکل نہیں ہے۔ انہوں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے میڈیا کو علاقے کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل سلیم نواز نے کہا کہ علاقے میں صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی تنصیبات کو خطرہ لاحق ہوا تو ایف سی اپنے فرائض پوری ذمہ داری سے ادا کرے گی۔

بالاچ مریقوم پرستوں کا مطالبہ
آپریشن بند کریں اور لاپتہ افراد کو سامنے لائیں
رئیسانیمذاکرات کی اپیل
اسٹیبلشمنٹ روڑے اٹکا رہی ہے: نواب رئیسانی
بلوچستان اسمبلییک رکنی اپوزیشن
بلوچستان اسمبلی نے کیا کیا، کیا کر پائے گی؟
بلوچستان اسمبلیاپوزیشن کہاں گئی
بلوچستان میں ایک ممبر پر مشتمل اپوزیشن
پاکستان پیپلز پارٹیپی پی کی اکثریت
پی پی کا پچپن کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ
بلوچستان اسمبلی
سو سے زیادہ قرار دادیں منظور، عمل درآمد ندارد
پی پی پی کا جھنڈاحکومت سازی
بلوچستان: آزاد اراکین کی طرف پی پی کی حمایت
اسی بارے میں
چمن میں حادثہ نو ہلاک
18 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد