BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 April, 2008, 09:37 GMT 14:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسٹیبلشمنٹ روڑے اٹکا رہی ہے‘

نواب اسلم رئیسانی
بلوچستان میں عالمی مداخلت موجود ہے: رئیسانی
بلوچستان کے وزیر اعلٰی نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ وہ حکومت اور عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی دعوت ہی دے سکتے ہیں باقی ان کی مرضی۔

یہ بات انہوں نے بدھ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

حکومت میں ہونے کے باوجود اتنی بے بسی پر انھوں نے کہا ’اسٹیبلشمنٹ کےساتھ منسلک کچھ لوگ اب بھی ہماری راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ فوج اور ِسول بیوروکریسی اس ملک پر حکومت کرتے چلے آرہے ہیں۔‘

اسلم رئیسانی کی توجہ جب ان اطلاعات کی طرف دلائی گئی کہ کالعدم تنظیمیں بلوچ لبریش آرمی اور بلوچ ریپبلکن آرمی نے مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا ہے تو انہوں نے کہا ’جن لوگوں نے اپنے حقوق کے لیے ہتھیار اٹھائے ہیں میں ان سے اپیل کروں گا کہ بھلے اپنے ہتھیار نہ ڈالیں لیکن مذاکرات کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھیں اور مذاکرات کی دعوت میں حکومت کو بھی دیتا ہوں۔ میں صرف اپیل کر سکتا ہوں اور وہ اگر یہ نہیں کرتے ہیں تو وہ ان کی مرضی۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ان مزاحمت کاروں کو بیرانی امداد بھی مل رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں عالمی مداخلت موجود ہے۔ اور اگر میں اس صوبے میں امن رکھنے میں ناکام رہا تو میں استعفیٰ دے دوں گا اور یہ میرا حتمی فیصلہ ہے۔ ’میں اپنے آپ کو اس صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے دو سال کا وقت دیتا ہوں اور ناکامی پر استعفیٰ دے دوں گا۔‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو اور کاہان میں گزشتہ چند دنوں میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔ اس کارروائی میں اب تک پچاس سے زائد افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہماری مائیں بہنیں غمگین ہیں۔ ’میں نے خود دیکھا ہے کہ بولان میں وہ بھیک مانگ رہی ہیں۔ اور یہ وہ خاندان ہیں جو کہ مالی طور مستحکم ہیں اور ان کے اپنی جائیدادیں ہیں ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور دیگر علاقوں میں۔‘

مقامی لوگوں کے مطابق مکانات اور فصلوں کو آگ لگائی گئی ہے اور خواتین اور بچوں کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ کچھ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

یاد رہے کہ نئی حکومت نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سکیورٹی آپریشن بند کروانے کے لیے ایک قرارداد بھی منظور کی تھی۔

اسی بارے میں
بلوچ قوم پرستوں کا احتجاج
27 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد