BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 March, 2008, 19:05 GMT 00:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ قوم پرستوں کا احتجاج

کراچی میں بلوچ قوم پرستوں کا احتجاج
ملک میں حکومتی تبدیلی کے بعد کراچی میں بلوچ جماعتوں کا یہ پہلا احتجاج تھا
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ نیشنل فرنٹ اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ستائیس مارچ یعنی یوم الحاق پاکستان کے حوالے سے احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس موقع پر کراچی میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

کوئٹہ میں احتجاجی ریلی سائنس کالج سے شروع ہوئی اور منان چوک پر مقررین نے جلسے سے خطاب کیا ہے۔ ان ریلیوں میں زیادہ تعداد نوجوان طلبا اور طالبات کی تھی۔

مقریرین نے کہا کہ پاکستان سے بلوچستان کا الحاق زبردستی کیا گیا ہے۔ مقررین نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنطیموں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے مسئلے پر مداخلت کریں اور بلوچوں کو ان کے حقوق دلائے جائیں۔

اس کے علاوہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوئٹہ میں لیاقت بازار میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ٹریفک پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل کو ہلاک کر دیا، جبکہ ایک راہ گیر زخمی ہوا۔

اس کے علاوہ کوئٹہ کے قریب کولپور کے علاقے میں بیس انچ قطر کی پائپ لائن کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے اور رات گئے دالبندین میں ریل کی پٹڑی پر دھماکہ ہوا ہے۔ کوئٹہ کے پٹیل روڈ اور حب میں دستی بموں کے دھماکے ہوئے ہیں۔ حب دھماکے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر ان حملوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ کوہلو کے قریبی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں جن میں فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح کاہان کے قریب حملوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بلوچستان میں دسمبر دو ہزار پانچ میں شروع ہونے والی مبینہ فوجی کارروائیوں اور پھر نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

ڈیرہ بگٹی اور کوہلو سمیت کئی علاقوں میں قومی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ گیس پائپ لائینوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں سے اس وقت سوئی میں کوئی تیس گیس کے کنوؤں میں نقص پیدا ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کی ایک بڑی آبادی ڈیرہ مراد جمالی اور دیگر علاقوں میں کھلے آسمان تلے پڑی ہیں۔ خان قلات نے بلوچستان کے مسائل اور پاکستان سے الحاق کو بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کراچی:
کراچی میں بلوچ نیشنل فرنٹ کے زیر اہتمام آرٹس کاؤنسل سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی، جس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔

بلوچستان پر شب خون
 ستائیس مارچ 1948 کو بلوچستان پر شب خون مارتے ہوئے پاکستان کی فورسز نے قبضہ کیا۔ حالانکہ گیارہ اگست 1947 کو وائس رائے ماونٹ بیٹن کی سربراہی میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت بلوچستان کی آزادی کو تسلیم کیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر قائد اعظم محمد علی جناح کے بھی دستخط موجود ہیں۔
شہزادہ ظفر جان

انہوں نے ہاتھوں میں نواب اکبر بگٹی، بالاچ مری، نواب خیر بخش مری اور سردار اختر مینگل کی تصاویر اٹھائی ہوئیں تھیں۔

پریس کلب تک بلوچستان کی آزادی اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے کی حمایت میں نعرہ بازی کی گئی جبکہ مظاہرین سردار اختر مینگل کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ نیشنل فرنٹ کے رہنما غلام محمد بلوچ اور شہزادہ ظفر جان کا کہنا تھا کہ ’ستائیس مارچ 1948 کو بلوچستان پر شب خون مارتے ہوئے پاکستان کی فورسز نے قبضہ کیا۔ حالانکہ گیارہ اگست 1947 کو وائس رائے ماونٹ بیٹن کی سربراہی میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت بلوچستان کی آزادی کو تسلیم کیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر قائد اعظم محمد علی جناح کے بھی دستخط موجود ہیں۔‘

بلوچستان کے نامزد وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مظاہرین نے رد کیا۔

نوجوان زاہد بارکزئی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں جو بھی پارلیامنٹ آئی ہے، اس نے مسائل حل نہیں کیے ہیں۔ اس لیے بلوچ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کا حل مسلح جدوجہد ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل نواب نوروز خان کو مذاکرات کے بہانے پہاڑوں سے اتارکر جیل میں رکھا گیا۔ بعد میں ان کے بیٹوں کو پھانسی دے دی گئی۔ اس وقت بھی بلوچستان کے کئی علاقوں میں بمباری جاری ہے، کئی لوگ دربدر ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں اذیت خانوں میں صعبوتیں برداشت کر رہے ہیں ۔

ایک دوسرے نوجوان شبیر نور کا کہنا تھا کہ ’بینظیر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کی بات کی جارہی ہے اور مطالبہ ہو رہے ہیں، مگر نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں کی تحقیقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟ کیا جو بمباری میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان کا قتل معاف کر دیا جائے؟‘

ان کا کہنا تھا اسلم رئیسانی سمیت وہ پارلیمنٹ میں موجود کسی بھی رکن پارلیمان پر بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ ایوان میں جانے کے بعد ہر کوئی اپنے مفاد کی بات کرتا ہے۔

ملک میں حکومتی تبدیلی کے بعد کراچی میں بلوچ جماعتوں کا یہ پہلا احتجاج تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد