BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 April, 2008, 16:52 GMT 21:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: نئے وزیراعلیٰ کے مطالبے

نواب اسلم رئیسانی
نواب اسلم رئیسانی کا انتخاب بدھ کو ہوا اور بدھ ہی کو انہوں نے حلف لیا اور اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نواب اسلم رئیسانی نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھانے اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کرے اور سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل سمیت تمام گرفتار یا لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے۔


وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کا انتخاب بدھ کو ہوا اور بدھ ہی کو انہوں نے حلف لیا اور اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں موجود اکسٹھ میں سے ستاون اراکین موجود تھے اور تمام نے کھڑے ہو کر نواب اسلم رئیسانی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

اسمبلی میں اپنے خطاب میں نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے وگرنہ اس طرح کی کارروائیاں عام آدمی کے دلوں مں بھی ایسی نفرت پیدا کر دیں گی جو مرتے دم تک ختم نہیں ہونگی۔

انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو نواب اکبر بگٹی اور میر بالاچ مری کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں کی قربانیوں سے جمہوریت کے لیے راستہ ہموار ہوا ہے۔ انہوں نے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ وفاق کے پاس تین محکمے ہونے چاہیں اور باقی صوبوں کے حوالے کرنا چاہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سینیٹ کو با اختیار بنانے کا مطالبہ کیا۔

فوجی آپریشن بند کیا جائے
بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے وگرنہ اس طرح کی کارروائیاں عام آدمی کے دلوں مں بھی ایسی نفرت پیدا کر دیں گی جو مرتے دم تک ختم نہیں ہونگی

نو منتخب وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کوئی تیس ارب روپے سٹیٹ بینک سے قرض لے چکی ہے جس پر ماہانہ پچیس کروڑ روپے تک بینک کو ادا کیے جاتے ہیں۔

نواب اسلم رئیسانی نے اپنے انتخاب کے بعد کہا تھا کہ اپنا گھر بارچھوڑ کر ہتھیار اٹھانے والے افراد سے مذاکرات کیے جائیں گے اور ان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپنے آپ کو بلوچ کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ فوجی آپریشن بند کرنے کے حوالے سے اسمبلیوں کی قرار دادوں اور بیانات پر انہیں یقین نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اس وقت تک مذاکرات کے لیے تیار ہیں جب تک فوج یہاں موجود ہے۔

اس سے پہلے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے نواب اسلم رئیسانی سےگورنر ہاؤس میں حلف لیا جس کے بعد پنڈال میں موجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے زبردست نعرہ بازی کی ہے۔

اسی بارے میں
پی پی کا اکثریت کا دعویٰ
13 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد