اسلم رئیسانی نے حلف اٹھا لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نواب اسلم رئیسانی نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوئی جس میں کچھ صحافیوں کو مدعو کا گیا تھا لیکن بیشتر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ گونر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے نواب اسلم رئیسانی سے حلف لیا جس کے بعد پنڈال میں موجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے زبردست نعرہ بازی کی ہے۔ نواب اسلم رئیسانی بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں اور انہیں اس وقت باسٹھ ارکان کے ایوان میں اکسٹھ اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ بدھ کی صبح بلوچستان اسمبلی میں نواب اسلم رئیسانی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ بلوچستان کے تمام مسائل حل کر سکیں اور اس وقت امن و امان کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بندوق اٹھانے والا دہشت گرد نہیں ہے کیونکہ کہیں بندوق اٹھانے والے کو مجاہد تو کہیں حریت پسند کہا جاتا ہے۔ نواب اسلم رئیسانی کے مطابق ان کی کوشش ہوگی کہ وہ تمام قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں اور مفاہمت کے ذریعے بلوچستان کے مسائل حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ گیس پائپ لائن پر حملے کرنے والے اور بم دھماکے کرنے والوں سے مذاکرات کیے جائیں گے اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں پشتونوں اور سندھیوں کو ان کے حقوق دیے جائیں کیونکہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہں ہوسکتے۔ نواب رئیسانی نے ڈاکٹر شیر افگن پر تشدد کے واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اگرچہ ڈاکٹر شیر افگن کے ساتھ ان کے اختلافات ہیں لیکن پھر بھی وہ اس طرح کے واقعات کو کسی کے ساتھ اچھا نھیں سمجھتے۔ آج بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے پارلیمان لیڈر مولانا عبدالواسع اور دیگر نے خطاب کیا ہے اور بلوچستان کو درپیش مالی مسائل کے علاوہ دیگر اہم موضوعات پر تقاریر کی ہیں۔ | اسی بارے میں پی پی کا اکثریت کا دعویٰ13 March, 2008 | پاکستان خلاف توقع صوبائی حکومتوں کےامکان؟17 March, 2008 | پاکستان بلوچستان اسمبلی کے پانچ سال17 November, 2007 | پاکستان آدھی اسمبلی میں مشرف کی حمایت06 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||