بلوچستان اسمبلی: دم توڑتی امیدیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی ابتدائی طور پر صرف سات نشستیں حاصل کرنے کے باوجود اس وقت تریسٹھ ارکان کے ایوان میں اکسٹھ ارکان کی حمایت حاصل کر چکی ہے اور اس میں سابق حکومت میں شامل جماعتیں مسلم لیگ قاف اور بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی شامل ہیں۔ قاف لیگ کے ساتھ ہاتھ ملانے پر بڑی تعداد میں لوگوں کی امیدیں ٹوٹ گئی ہیں اور اب لوگوں کے مطابق انہیں ایسا لگ رہا ہے کہ ماضی کی پالیسیاں صوبے میں جاری رہیں گی۔ مسلم لیگ قائد اعظم کی مخلوط حکومت پر الزام ہے کہ ان کے دور میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کیاگیا، نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری سمیت بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور لاپتہ ہوئے اور سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار اختر مینگل سمیت کئی لوگ گرفتار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سازی کی کوششوں سے لوگوں کی ہمدردیاں پیپلز پارٹی کے ساتھ تھیں لیکن جب قاف لیگ اور بلوچ نیشنل پارٹی عوامی کو ساتھ شامل کیا گیا تو یہ امیدیں دم توڑ گئیں۔ صحافی امین اللہ فطرت کہتے ہیں کہ ایسا کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو بلوچستان میں اتنی نشستیں دلانے میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کا بلوچستان میں اتنا ووٹ بینک نہیں ہے۔ ایک اور صحافی خلیل احمد کا کہنا تھا کہ ’قاف لیگ اور بی این پی عوامی کے ساتھ مشترکہ حکومت سازی سے پیپلز پارٹی کی پالیسیاں عیاں ہوگئی ہیں اور اب وہی ہوگا جوماضی میں ہوتا آیا ہے۔‘ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے اس اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا کہ ’قاف لیگ کو قاتل لیگ کہنے والے کیسے ان کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں؟ اب قاف لیگ اور پیپلز پارٹی ایک ہو چکے ہیں اور بلوچوں نے تو ویسے ہی ان انتخابات کو مسترد کر دیا تھا۔ اس لیے انہیں اس حکومت سے کوئی امید نہیں ہے۔‘ بلوچ خواتین پینل کے شکر بلوچ کا کہنا تھا کہ انہیں تو بلوچستان کے حوالے سے پارلیمانی سیاست پر یقین ہی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں مفادات ہوں وہاں نظریات نہیں ہوتے اور بلوچوں کے لیے مسئلہ ریاست کا ہے جبکہ ان پارلیمانی طریقوں سے صوبائی خودمختاری کی باتیں پرانی ہو چکی ہیں۔‘ انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان کے چیئرمین ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ سب لوگ ذاتی مفادات کی خاطر اکٹھے ہوئے ہیں اور ان کی مثال مچھلیوں کی طرح ہے جو پانی کے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ ویسے ہی یہ لوگ اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے۔‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے نو منتخب رکن صادق عمرانی نے کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر مسلم لیگ قائد اعظم کی شمولیت کی بھر پور مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ قاف لیگ کے لوگ خود بھاگ کر آئے ہیں اور کہا کہ انہیں ساتھ رکھیں چاہے کوئی وزارت نہ دیں تاکہ ان کے کالے کرتوتوں پر پردہ پڑا رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کی حکومت کو چاہیے کہ کسی ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایک کمیشن قائم کیا جائے جو ماضی میں بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ظلم کی تحقیقات کرے اور ذمہ دار افراد کو سزائیں دے۔‘ پیپلز پارٹی کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار نواب اسلم رئیسانی نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے جو بلوچستان میں فوجی آپریشن میں ملوث رہے ہیں لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ انسان خطا کا پتلا ہے اور یہ کہ سابق وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی سمیت تمام لوگ معصوم اور بے قصور ہیں۔ آپریشن کرنے والے اور ہیں اور ان سے سب کچھ اسمبلی میں کہلوایا جاتا تھا۔ پیپلز پارٹی کو اتنی بڑی حمایت ملنے کے بعد اب وزارتوں کی تقسیم بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ مبصرین کے مطابق ان میں سے بیشتر لوگ ایسے ہیں جو اچھی وزارت کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ فائرنگ، تین اہلکار ہلاک23 November, 2007 | پاکستان بگٹی برسی، ہڑتال، مظاہرے، گرفتاریاں26 August, 2007 | پاکستان بگٹی برسی، ہڑتال، مظاہرے، گرفتاریاں26 August, 2007 | پاکستان فہرست: پاکستان میں تشدد کے واقعات11 July, 2007 | پاکستان کوئٹہ: بلوچ رہنما، کئی گرفتار15 June, 2007 | پاکستان کوئٹہ: فوجیوں سمیت نو ہلاک14 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||