BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی برسی، ہڑتال، مظاہرے، گرفتاریاں

کوئٹہ
کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اتوار کو نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی ہے جبکہ وڈھ سے بلوچستان نیشنل پارٹی اور پولیس کے مابین کشیدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکیں ویران پڑی ہیں۔

خضدار کے قریب وڈھ میں بی این پی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور بقول سابق رکن صوبائی اسمبلی اکبر مینگل کے پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے جس سے چھ کارکن معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

پولیس نے کوئٹہ میں لگ بھگ تیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان نے بتایا ہے کہ بتیس افراد تو صرف ان کے قبیلے کے اٹھائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو بجلی ان ہی کے سر پر گرتی ہے لیکن وہ اپنی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ نوشکی اور سبی سے بھی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

نواب اکبر بگٹی گزشتہ سال ایک فوجی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے

ڈیرہ اللہ یار اور بارکھان میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد کیے گئے ہیں۔ بارکھان سے نیشنل پارٹی کے لیڈر سینیٹر ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ بارکھان میں پہلی مرتبہ اتنا بڑا جلسہ منعقد کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی پالسیوں کے خلاف عوام میں نفرت بڑھ رہی ہے اور اب یہ بلوچستان کے دیگر علاقوں تک پھیل رہی ہے۔

گزشتہ روز کسی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیےحکومت نے کوئٹہ میں حفاظتی انتظامات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کےتقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات کیے تھے۔

ادھر کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور خضدار میں سنیچر کو دھماکے بھی ہوئے تھے جبکہ ڈیرہ بگٹی، سوئی اور کوہلو میں راکٹ داغے گئے تھے۔ ان دھماکوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شہر میں تین ہزار پولیس اہلکار اور دو ہزار کے لگ بھگ فرنٹیئر کور اور انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

کوئٹہ
دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکیں ویران پڑی ہیں

کوئٹہ میں ایک پولیس اہلکار کے مکان کی چھت پر دھماکہ ہوا ہے جبکہ اس کے علاوہ نوشکی اور مستونگ میں دو دو اور خضدار سے ایک دھماکے کی اطلاع ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں چھ راکٹ داغے گئے۔

یہ راکٹ فرنٹیئر کور کے کیمپ اور سوئی گیس فیلڈ کے علاقے میں گرئے۔ اس حوالے سے پولیس حکام سے بارہا کوششوں کے باوجود رابطہ نہیں ہو سکا۔

ایک شخص جس نے اپنا نام صبغت اللہ بلوچ اور خود کو لشکر بلوچستان نامی تنظیم کا ترجمان ظاہر کیا، اتوار کو نامعلوم مقام سے بی بی سی کراچی آفس کو ٹیلی فون کرکے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ ’جب تک بلوچستان میں مظالم بند نہیں ہوتے وہ اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘

کراچی سے ہمارے نامہ نگار احمد رضا نے اطلاع دی ہے کہ لیاری میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی پہلی برسی کے موقع پر ہونے والے جلسے کے مقام کو پولیس نےگھیرے میں لے لیا ہے اور اسٹیج توڑ پھوڑ دیا ہے۔

یہ جلسہ جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے لیاری کے مرکزی علاقہ بلوچ چوک پر آج سہ پہر تین بجے شروع ہونا تھا جس سے سندھی اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں کو خطاب کرنا تھا تاہم تین بجے کے قریب ہی پولیس کی دو درجن گاڑیوں نے جلسہ گاہ کوگھیرے میں لے لیا اس وقت اسٹیج اور جلسہ گاہ کی تیاری کا کام جاری تھا۔

جلسے کے ایک منتظم اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شہزادہ ظفر نے بتایا کہ محاصرے کے کچھ دیر بعد پولیس نے اسٹیج توڑ پھوڑ دیا اور تیاریوں میں مصروف نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

تاریخی پس منظر
بلوچستان کو پہلا گھاؤ سن سینتالیس میں لگا
پراسرار گمشدگی
اکبر بُگٹی کے مخالفین کدھر ہیں؟
حکومتی بیانات
نواب اکبر بگٹی کیسے مارے گئے؟
راز فاش نہ ہوجائے
پہلے بگٹیوں کا خوف تھا، اب خفیہ والوں کا ہے
تصویروں میں
ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر کی تدفین
بگٹی، سوالیہ نشان
حکام کے بدلتے بیانات سے معاملے میں الجھاؤ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد