بگٹی برسی، ہڑتال، مظاہرے، گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں آج نواب اکبر بگٹی کی برسی کے حوالے سے یوم سیاہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی ہے ۔ پولیس نے بلوچستان بھر سے قریباً ستّر افراد کو حراست میں لیا ہے۔ مسلح تنظیموں نے مختلف مقامات پر دھماکوں کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اتوار کو نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی ہے جبکہ وڈھ سے بلوچستان نیشنل پارٹی اور پولیس کے مابین کشیدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں آج مختلف مقامات پر سیاہ پرچم لہرائے گئے دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکیں ویران پڑی رہیں۔ کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ پولیس نے کوئٹہ میں لگ بھگ پچاس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ سریاب روڈ پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے ہیں اور لاٹھی چارج کیا گیا ہے۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما عطاءاللہ بلوچ نے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی بیس گاڑیوں کے شیشے توڑے ہیں اور ریل کی پٹڑی پر رکاوٹیں کھڑی کی ہیں لیکن بعد میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان نے بتایا ہے کہ بتیس افراد تو صرف ان کے قبیلے کے اٹھائے گئے ہیں۔ نوشکی، آواران، سبی اور دیگر علاقوں سے بیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے کارکن شامل ہیں۔
خضدار کے قریب وڈھ میں بی این پی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور بقول سابق رکن صوبائی اسمبلی اکبر مینگل کے پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے جس سے چھ کارکن معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ڈیرہ اللہ یار اور بارکھان میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد کیے گئے ہیں۔بارکھان سے نیشنل پارٹی کے لیڈر سینیٹر ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ بارکھان میں پہلی مرتبہ اتنا بڑا جلسہ منعقد کیا گیا ہے ۔ ڈیرہ اللہ یار اور بارکھان میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد کیے گئے ہیں۔ بارکھان سے نیشنل پارٹی کے لیڈر سینیٹر ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ بارکھان میں پہلی مرتبہ اتنا بڑا جلسہ منعقد کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی پالسیوں کے خلاف عوام میں نفرت بڑھ رہی ہے اور اب یہ بلوچستان کے دیگر علاقوں تک پھیل رہی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں قائدحزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچوں کو نواب خیر بخش مری کی سربراہی میں متحد ہو جانا چاہیے۔ ادھر اپنے آپ کو بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نے ٹیلیفون پر ڈیرہ بگٹی میں بجلی کے کھمبے اور گیس پائپ پر حملوں کے علاوہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی زمہ داری قبول کی ہے۔ اس کے علاوہ دو نئی مسلح تنظیموں سے وابستہ افراد نے وڈھ اور نوشکی میں دھماکوں کی زمہ داریاں قبول کی ہیں۔ یاد رہے اس سے پہلےکالعدم تنظیمیں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے نام سامنے آتے رہے لیکن اب تین مذید تنظیمں اس طرح کی کارروائیوں کی زمہ داریاں قبول کر رہی ہیں ۔ گزشتہ روز کسی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیےحکومت نے کوئٹہ میں حفاظتی انتظامات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کےتقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات کیے تھے۔کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شہر میں تین ہزار پولیس اہلکار اور دو ہزار کے لگ بھگ فرنٹیئر کور اور انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
کراچی سے ہمارے نامہ نگار احمد رضا نے اطلاع دی ہے کہ لیاری میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی پہلی برسی کے موقع پر ہونے والے جلسے کے مقام کو پولیس نےگھیرے میں لے لیا اور اسٹیج توڑ پھوڑ دیا۔ یہ جلسہ جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے لیاری کے مرکزی علاقہ بلوچ چوک پر آج سہ پہر تین بجے شروع ہونا تھا جس سے سندھی اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں کو خطاب کرنا تھا تاہم تین بجے کے قریب ہی پولیس کی دو درجن گاڑیوں نے جلسہ گاہ کوگھیرے میں لے لیا۔ اس وقت اسٹیج اور جلسہ گاہ کی تیاری کا کام جاری تھا۔ جلسے کے ایک منتظم اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شہزادہ ظفر نے بتایا کہ محاصرے کے کچھ دیر بعد پولیس نے اسٹیج توڑ پھوڑ دیا اور تیاریوں میں مصروف نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ لاہور سے صحافی امداد علی سومرو کے مطابق اکبر بگٹی کی پہلی برسی کے موقع پر بلوچ ویلفیئر اتحاد پنجاب کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی بلوچستان کی وہ واحد بااثر سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے ہیشہ آئین کے اندر رہتے ہوئے صوبے کے حقوق کی بات کی۔ مقررین نے بگٹی کی ہلاکت کو اصل میں وفاقِ پاکستان پر کاری ضرب قرار دیا۔ اس تقریب سے نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی نے بھی ٹیلیفونک خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور محسوس یہ ہورہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف عالمی طاقتوں کے ہاتھوں بِک چکے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر فوج کو بدنام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ایک قابل احترام ادارہ تھا، لیکن مشرف نے فوج کو عوام کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ |
اسی بارے میں بگٹی برسی: یوم سیاہ، ہڑتال کی اپیل25 August, 2007 | پاکستان سوئی دھماکہ، پولیس اہلکار زخمی12 August, 2007 | پاکستان رازق بگٹی قاتلانہ حملے میں ہلاک27 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||