BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 21:58 GMT 02:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: فوجیوں سمیت نو ہلاک

زخمی
ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد چھاؤنی سے تعلق رکھنے والوں کی بتائی جاتی ہے
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے ایک پک اپ پر اندھا دھند فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سات فوجی اور ایک پولیس اہلکار بتائے گئے ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ تاخیر سے آنے والی چلتن ایکسپریس سے نکل کر کچھ مسافر دو پک اپ گاڑیوں میں چھاؤنی کے علاقے کی طرف جا رہے تھے کہ ان کے تعاقب میں آنے والی ایک چھوٹی گاڑی میں سوار افراد نے خود کار اسلحہ سے ان پرحملہ کر دیا۔ پہلی گاڑی تو بچ گئی لیکن دوسری میں سوار افراد فائرنگ کی زد میں آ گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد واپس جا رہے دو پولیس اہلکار بھی فائرنگ کی زد میں آ گئے جن میں سے ایک نے بعد میں ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

کوئٹہ فائرنگ
پک اپ کے فرش پر خون پڑا ہے

دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

جس گاڑی پر حملہ ہوا اس میں سوار سرفراز مسیح اپنی بیوی اور بچی کے ہمراہ اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ سرفراز نے بتایا کہ تقریباً تمام افراد فیصل آباد سے چلتن ایکسپریس کے ذریعے کوئٹہ پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر افراد بھی چھاؤنی میں ملازمت کرتے تھے۔

کوئٹہ فائرنگ
حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کی لاش پڑی ہے

سرفراز نے بتایا کہ ان کی گاڑی نے ریلوے سٹیشن سے نکلنے کے بعد ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ’انھوں نے فائرنگ کی آواز سنی جس کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا کہ ان کی گاڑی کے دونوں جانب سے فائرنگ ہو رہی ہے۔‘

سرفراز نے بتایا کہ ان کے ساتھ گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہو گیا اور گاڑی سے آگے موٹر سائکل پر سوار دو پولیس والے بھی فائرنگ کی زد میں آ گئے اور موٹر سائیکل سمیت زمین پر گر گئے۔

جس گاڑی پر حملہ کیا گیا وہ سول ہسپتال میں ایمر جنسی وارڈ کے باہر کھڑی ہوئی تھی۔ گاڑی میں بیگ پڑے تھے اور فرش پر خون ہی خون تھا۔

عینی شاہدین میں سے ایک پولیس اہلکار ارشاد نے بتایا کہ مسلح حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ڈی آئی جی رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کو چوکس کر دیا گیا ہے اور اہم مقامات پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
کوئٹہ میں ایک اور دھماکہ
12 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد