بلوچستان میں ’ آپریشن جاری‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر آواران اور پنجگور کے سرحدی علاقوں میں تیسرے روز بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی ہے۔ آواران اور پنجگور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق میری اور رخشان کے علاقوں کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور صبح سویرے ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کی ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے دھماکوں کی آوازیں بھی سنی ہیں۔ سرکاری سطح پر ان کارروائیوں کی تصدیق تو نہیں کی جارہی لیکن حکام نے بتایا ہے کہ مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کے لیے صوبے کے مختلف مقامات پر تلاشی آپریشن ہو رہے ہیں تاکہ قومی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے لیکن کوئی بمباری وغیرہ نہیں ہو رہی۔ میری رخشان اور گچک کے علاقے پنجگور، آواران اور واشک کی سرحد پر واقع ہیں۔ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی رحمت بلوچ نےکہا ہے کہ ایسے اقدامات سے حکومت خود لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے نفرت پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں سیکیورٹی فورسز کارروائی کر رہی ہیں اور دس سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں چرواہے، زمیندار اور مقامی لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب چاروں طرف سکیورٹی فورسز موجود ہیں تو وہاں فراری یا مشتبہ افراد کیسے آ سکتے ہیں۔ پنجگور، آواران کے علاوہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے اورگزشتہ تین روز میں کوئٹہ، بولان، کوہلو، مستونگ اور سبی میں ایک درجن سے زیادہ دھماکے ہوئے ہیں جن میں چھ بجلی کے کھمبوں کو بھی اڑایا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان: دھماکے میں ایک ہلاک02 December, 2006 | پاکستان بلوچستان میں جھڑپیں جاری ہیں08 January, 2007 | پاکستان بلوچستان: پانچ راکٹ داغے گئے26 January, 2007 | پاکستان بلوچستان دھماکے، ایک ہلاک07 March, 2007 | پاکستان بلوچستان میں فوج کے خلاف قرار داد19 March, 2007 | پاکستان بلوچستان:گرفتاریاں اور مظاہرے27 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||