کوئٹہ: بلوچ رہنما، کئی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں فوج کی گاڑی پر حملے اور نو افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو رہنماؤں سمیت ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء ولی کاکڑ نے بتایا ہے کہ سریاب روڈ سے ان کی پارٹی کے دو رہنماؤں موسیٰ جان اور آغا حسن بلوچ کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس صرف کارکردگی دکھانے کے لیے بےگناہ افراد کو حراست میں لے لیتی ہے۔ پارٹی کے رہنما حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ان کے سولہ کارکنوں اور رہنماؤں کو پولیس نے چھاپے لگا کر گرفتار کیا ہے۔ گرفتار افراد کی تعداد کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق پولیس نے بارہ سے بیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔
اس بارے میں پولیس حکام سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی لیکن اکثر ذمہ دار افسروں نے اپنے ٹیلیفون بند کر رکھے تھے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق مسعود کھوسہ دفتر میں موجود تھے لیکن ہلاکتوں اور گرفتاریوں پر بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ نامعلوم افراد نے جمعرات کی شب کوئٹہ شہر میں زرغون روڈ پر ایک فوجی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں سات فوجی اور ایک پولیس اہلکار شامل تھے۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی ہاؤس سے کوئی سو گز کے فاضلے پر اس طرح کی واردات سے پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی کے ڈرائیور انور نے بتایا کہ ایک سفید رنگ کی نئی سوزوکی کار میں سوار چار افراد نے کلاشنکوف سے شدید فائرنگ کی ہے۔ فائرنگ پہلے گاڑی کے پیچھے سے اور پھر دائیں جانب سے کی گئی۔ انور نے بتایا کہ حملہ آور چار تھے اور کلین شیو تھے جبکہ گاڑی کی نمبر پلیٹ نہیں تھی۔
جمعرات کی رات گیارہ اور ساڑھے گیارہ بجے کے درمیان جب زرغون روڈ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تو اس روز امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کوئٹہ کے دورے پر آئے ہوئے تھے اور دوپہر کے بعد چمن کا دورہ مکمل کر کے واپس اسلام آباد چلے گئے تھے۔ ان کے اس دورے کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا ہے اس سے کچھ فاصلے پر پولیس کا ناکہ ہے اور پولیس سٹیشن بھی کوئی زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔ اس سال فروری میں ضلع کچہری میں ایک جج کی عدالت میں دھماکے سے سات وکیلوں سمیت سولہ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس تاحال اس دھماکے میں ملوث افراد کو گرفتار نہیں کر سکی اور نہ ہی اس بارے میں تفتیش کچھ آگے بڑھی ہے۔ بلوچستان کے اعلیٰ پولیس اہلکار اخباری کانفرنسوں کے ذریعے وقتاً فوقتاً پولیس کی اعلیٰ کارکردگی کے دعوے کرتے رہتے ہیں، لیکن جرائم کی شرح میں کوئی قابل ذکر کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ حملے کی مذمت جمعہ کو کوئٹہ میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جیسے پولیس کو ہر لمحہ چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کے اہلکار بھی اہم مقامات پر پولیس کے ساتھ گشت کریں گے۔ جام محمد یوسف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس اجلاس میں انہوں نے ہدایت کی ہے کہ گزشتہ رات فوجیوں پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف چوبیس گھنٹے کے اندر نتیجہ خیز بڑی کارروائی شروع کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ’قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے اور اگر کوئی یہ بیان دے کہ اگر ہمارے خلاف کارروائی ہوئی تو ہم پانچ کے بدلے دس گرائیں گے، تو ایسے لوگ چاہے جو کوئی بھی ہو ان کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔‘ ڈی آئی جی کوئٹہ رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ اب تک دس افراد کو باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہے جبکہ لگ بھگ بیس افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں کوئٹہ: کان میں دھماکہ، تین ہلاک05 June, 2007 | پاکستان کوئٹہ: ’احتجاجی بم دھماکے‘28 May, 2007 | پاکستان کوئٹہ: فائرنگ 4 ہلاک26 May, 2007 | پاکستان کوئٹہ دھماکے کے بعد 35 گرفتار18 February, 2007 | پاکستان کوئٹہ بم دھماکے میں پندرہ ہلاک17 February, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||