ایرانی اہلکاروں کا کوئی سراغ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے سرحدی شہر ساکران سے مبینہ طور پر اغوا کیے گئے سولہ ایرانی اہلکاروں کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے- ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکام کو شبہہ ہے کہ ان اہلکاروں کو بلوچستان کی طرف لے جایا گیا ہے۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ایرانی اہلکاروں کو کن لوگوں نے اغوا کیا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ سولہ اہلکاروں کو جمعہ اور جمعرات کی درمیانی شب ایران کے صوبہ سیستان میں ساکران ضلع کی چوکی حق آباد سے اغوا کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں حکام اس بارے میں لا علمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس بارے میں صوبائی وزیر داخلہ ظفراللہ زہری سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ دفتر کے کام میں مصروف ہیں اس لیے کوئی بات نہیں کر سکتے۔ دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم جنداللہ کا ترجمان ظاہر کرنے والے مولوی عبدالرؤوف نامی شخص نے کوئٹہ پریس کلب میں ٹیلی فون کر کے تنظیم کی جانب سے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے گزشتہ سال اگست میں سترہ ایرانیوں کو اغوا کیا گیا تھا جنہیں پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے ایک کارروائی کے بعد بازیاب کرا لیا تھا۔ ادھر سوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نا معلوم افراد نے تین راکٹ داغے ہیں جن میں سے دو فرنٹیر کور کے کچہ قلعہ کے پاس اور ایک گیس فیلڈ کے گیٹ نمبر تین کے پاس گرا ہے۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق اس سے چھ انچ قطر کی ایک پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے۔ دریں اثنا بلوچ کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور دعوی کیا ہے کہ اس میں سیکیورٹی فورسز کا نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پراس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ | اسی بارے میں پاک سرحد: سولہ ایرانی اہلکار اغواء13 June, 2008 | پاکستان شادی کر لو نہیں تو نوکری چلے جائے گی11 June, 2008 | آس پاس یورینیم، افزودگی نہیں رکے گی: ایران14 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||