یورینیم، افزودگی نہیں رکے گی: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے عالمی طاقتوں کی جانب سے ایک مراعاتی پیکیج کی پیشکش پر کہا ہے کہ وہ کسی ایسے سمجھوتے کو نہیں مانے گا جس کے تحت اسے یورینیم کی افزودگی روکنی پڑے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ خاویئر سولانا نے تجارت سے متعلق ایک مراعاتی پیکیج پیش کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اور جرمنی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اس پیکیج کے عوض اپنا ایٹمی پروگرام ترک نہیں کیا تو اس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت اس پیکیج پر غور کرے گی لیکن اگر اس میں یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ ہوگا تو اس پر بات بھی نہیں کی جاسکتی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی ملکوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران اسے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ بدھ کے روز امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیے سفارتکاری کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ ان کے سامنے تمام راستے کھلے ہیں۔ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب کے لیے عالمی طاقتوں کی پیشکش شاید مذاکرات کے ذریعے اس معاملے کے حل کی آخری کوشش ہو۔ خاویئر سولانا کی جانب سے پیش کردہ مراعاتی پیکیج کے تحت ایران کو پرامن نیوکلیئر پروگرام کے لیے مدد کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس پیکیج کے ذریعے مغربی ممالک نے ایران کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور سیاسی اور تجارتی مراعات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خاویئر سولانا نے یہ پیکیج سنیچر کے روز ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی کو دیدی۔ | اسی بارے میں ’ایران معلومات چھپا رہا ہے‘27 May, 2008 | آس پاس ’ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے‘03 June, 2008 | آس پاس ’ایران کا جوہری پروگرام روکیں‘04 June, 2008 | آس پاس ایران پر حملے کی اسرائیلی دھمکی06 June, 2008 | آس پاس عراق ایران بہتر تعلقات کی کوشش08 June, 2008 | آس پاس ’عراقی مسائل کی وجہ امریکہ ہے‘09 June, 2008 | آس پاس ایران کو مزید پابندیوں کی دھمکی10 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||