’عراقی مسائل کی وجہ امریکہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے عراق کے وزیراعظم سے کہا ہے کہ عراق کی مشکلات کی بڑی وجہ ملک میں امریکی افواج کی موجودگی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ کی عراق کے بارے میں خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ بی بی سی کے جون لین نے تہران سے بتایا ہے کہ ایرانی میڈیا کے بقول آیت اللہ خامنہ ای نے عراق کے وزیراعظم نوری المالکی کو بتایا کہ ’عراق کی حکومت اور عوام کی راہ میں اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت کرنے والی قابض فوج حائل ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہمیں یقین ہے کہ عراقی عوام اتحاد اور نظم و ضبط سے اپنی مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں اور بے شک امریکہ کی خواہش پوری نہیں ہو گی‘۔ عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی کا یہ ایران کا رواں سال میں دوسرا دورہ ہے اور انہوں نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ ان کو عراق کی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عراق کی سر زمین سے ہمسایہ ملک ایران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے‘۔ عراق کی کوشش ہے کہ ایران کو بغداد اور واشنگٹن کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے سلسلے میں مطمئن کرائے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ عراق میں اپنے مستقل فوجی اڈے بنا سکتا ہے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ اکتیس دسمبر کو اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ختم ہو رہا ہے اور یہ معاہدہ ضروری ہے تاکہ سکیورٹی کے حوالے سے خلاء نہ رہے۔ وزیراعظم نوری المالکی پر واشنگٹن سے دباؤ ہے کہ وہ یہ معاہدہ کریں تاہم عراقی عوام اس کے خلاف ہیں۔ میڈیا نے عراقی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ عراق میں پچاس اڈے رکھنا چاہتا ہے تاہم اس امریکہ نے اس کی تردید کی ہے۔ | اسی بارے میں عراق ایران بہتر تعلقات کی کوشش08 June, 2008 | آس پاس ایران: ممکنہ حملے کی قیاس آرائیاں08 June, 2008 | آس پاس نوری المالکی ایران جارہے ہیں07 June, 2008 | آس پاس ایران اور شام سے دور رہیں: بش18 May, 2008 | آس پاس مالکی کا علاقائی حمایت کا مطالبہ22 April, 2008 | آس پاس ایرانی صدر عراق کےتاریخی دورے پر02 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||