ایرانی صدر عراق کےتاریخی دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد عراق کے دو روزہ دورے پر آج بغداد روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ کسی بھی ایران کے سربراہ کا عراق کا پہلا دورہ ہے۔ ایران کے صدر نے عراق کے دو روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ایرانی ٹیلیوژن پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عراق کو امریکیوں نے خاک و خون میں دھکیل دیا ہے لیکن پھر بھی فرزندانِ عراق کو ترقی کی راہ پر چلنا چاہیئے۔ انہوں نے امریکہ کے ان الزامات کی تردید کی کہ ایران عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’اس طرح کی باتیں اس لیے کی جا رہی ہیں کہ عراق پر اپنے قبضے کا کوئی بہانہ حاصل کیا جا سکے۔ ایران کو یقین ہے کہ عراق کے باشندے اپنے تحفظ کا انتظام کر سکتے ہیں، اپنے معاملات خود چلا سکتے ہیں اور اپنے ملک کی تعمیر بھی خود کر سکتے ہیں۔‘ ایران کے صدر پہلے بھی امریکہ بالخصوص صدر بش پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے خطے میں ’تقسیم کے بیج بوئے ہیں‘۔ محمود احمدی نژاد عراق کے صدر جلال طالبانی کی دعوت پر بغداد آ رہے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو ساکیس کا کہنا ہے کہ کئی سنی عرب ایرانی صدر کے اس دورے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایک شخص کو مہمان بنایا جا رہا ہے جس کے متعلق شبہ ہے کہ وہ شیعہ شدت پسندوں کو اسلہ اور رقم فراہم کرتا ہے۔ | اسی بارے میں جوہری معاملے پر ’عظیم فتح‘27 February, 2008 | آس پاس ’ایرانی عوام سے معافی مانگے‘24 February, 2008 | آس پاس امریکہ ایران پرنئی پابندیوں کا حامی 23 February, 2008 | آس پاس آبنائے ہرمز: ایرانی فلم بھی جاری10 January, 2008 | آس پاس ایران سب سے بڑا دہشتگرد ہے: بش14 January, 2008 | آس پاس آبنائے ہرمز واقعےکی ویڈیو جاری08 January, 2008 | آس پاس ایرانی کارروائی خطرناک: رائس07 January, 2008 | آس پاس پابندیاں بری طرح ناکام ہونگی: ایران26 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||