BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 February, 2008, 05:44 GMT 10:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ ایران پرنئی پابندیوں کا حامی
کونڈولیزا رائیس (فائل فوٹو)
امریکہ اور کچھ دیگر ممالک کہتے ہیں کہ ایران ایٹم بم بنانے کے قابل ہو جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے کہا ہے کہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیےمضبوطجوازموجودہے۔

ان کے بیان سے پہلے اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ یہ کہہ چکا تھا کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ایران ایٹمی بم نہیں بنا رہا۔

اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے ممبران امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ پیر کو واشنگٹن میں صورتحال کا جائزہ لیں گے اور ممکنہ اقدام پر غور کریں گے۔

خفیہ رپورٹ
 سن دو ہزار تین میں امریکہ میں خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران نے سن دو ہزار تین میں اپنا جوہری پروگرام روک دیا تھا۔ لیکن امریکہ، اسرائیل اور کچھ دیگر ممالک کہتے ہیں کہ ایران نے پیشرفت جاری رکھی جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ایٹمی بم بھی بنا سکے گا۔
جوہری امور پر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ان کے موقف کی تصدیق کرتی ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پر امن ہے۔ تہران اپنا جوہری پروگرام روکنے سے انکار کرتا آ رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس سے پہلے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں جوہری تنصیبات تک رسائی دینے پر ایران کی تعریف کی تھی لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران اہم موضوعات پر سیدھا جواب نہیں دے رہا۔ آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان گزشتہ سال اگست میں سمجھوتہ ہوا تھا جس میں طے ہوا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک نظام الاوقات کے تحت سوالات کے جواب دے گا۔

لیکن جمعہ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ان دعووں کا واضح جواب نہیں دیا کہ اس نے خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس نے کہا کہ آئی اے ای اے کی رپورٹ یقیناً ایران مکمل طور پر شک سے بالا نہیں کرتی۔

سن دو ہزار تین میں امریکہ میں خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران نے سن دو ہزار تین میں اپنا جوہری پروگرام روک دیا تھا۔ لیکن امریکہ، اسرائیل اور کچھ دیگر ممالک کہتے ہیں کہ ایران نے پیشرفت جاری رکھی جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ایٹمی بم بھی بنا سکے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد