ایران پر پابندیاں، برلن میں اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران پر مزید پابندیاں لگانے پر موجود اختلافات پر بحث کرنے والے ہیں۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس، چین اور جرمنی کے وزرائے خارجہ اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے منگل کو برلن میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی یورینیم کی افزودگی نہ روکنے پر ایران پر مزید پابندیاں لگانا چاہتے ہیں جبکہ روس اور چین ایسے کسی اقدام کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ برلن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر پابندیاں لگانے کی تیسری قرارداد پر غور کیا جائے گا، جس کے ذریعے ایران کے بنکنگ اور کاروباری شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ایک فرانسیسی سفارتکار نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں ماہ کے آخر تک سلامتی کونسل میں (تیسری) قرارداد کا مسودہ پیش کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا ’وزراء میں (منگل کو) مسودے پر اتفاق رائے ہو جانا چاہیے تاکہ اسے نیو یارک (اقوام متحدہ کا ہیڈ کورٹر) بھیجا جائے۔ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘ انہوں نے مجوزہ قرارداد کی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ متوازن ہوگی۔ لیکن کچھ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی کئی معاملات ایسے ہیں جن پر اختلاف موجود ہے۔ روس اور چین کو ایران پر مزید پابندیاں لگانے پر راضی کرنا اس وقت سے اور بھی مشکل ہوگیا ہے جب پچھلے ماہ ایک امریکی خفیہ رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنا جوہری اسلحہ بنانے کا پروگرام سال دو ہزار تین سے معطل کر رکھا ہے۔ |
اسی بارے میں ایران سب سے بڑا دہشتگرد ہے: بش14 January, 2008 | آس پاس خلیج میں غیر ارادی تصادم کے خطرات12 January, 2008 | آس پاس محمد البرادعی ایران پہنچ گئے11 January, 2008 | آس پاس روسی جوہری ایندھن ایران روانہ17 December, 2007 | آس پاس ایران اب جوہری منصوبہ ترک کردے: امریکہ17 December, 2007 | آس پاس ایٹمی اسلحہ:ایران’پرعزم نہیں‘:03 December, 2007 | آس پاس ایران کے خلاف نئی قرار داد پر اتفاق02 December, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||