ایران اور روس تعلقات، توقعات اور پیچیدگیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوسری جنگ عظیم کے دوران انیس سو تینتالیس میں امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ، برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل اور روسی صدر سٹالن کے درمیان ہونےایران میں
تہران سے شائع ہونےوالے ایک اخبار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کے صدر ولادمیر پوتین کا دورہ، ایران کے عوام کے لیے اسی اہمیت کا حامل ہے جو چونسٹھ برس قبل ہونے تین مغربی طاقتوں کے سربراہی اجلاس کی تھی۔ اخبار لکھتا ہے کہ صدر ولادمیر پوتین کی ایران کی سرزمین پر موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مغرب اور امریکہ کی ایران کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور ایران کو سفارت کاری میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم ایران اور روس کے درمیان روائتی طور پر تعلقات اتنے پیچیدہ رہے ہیں کہ ان کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں ہو گا۔ دونوں ملکوں کے باہمی مفادات سے قطع نظر فریقین میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور وہ اس خدشے میں متبلا ہیں کہ کہیں دوسرا انہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال نہ کر لے۔ تہران میں بحیرہ کیسپین کے علوم کے بین الاقوامی ادارے کے چیئرمین عباس مالکی نے کہا کہ ایران کی طرف سے وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایران روس کو ایک اچھے ہمسایہ ملک اور بین الاقوامی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ایران کی ٹیکنالوجی کی ضروریات بھی پوری کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ایران روس پر اعتبار نہیں کر سکتا کہ وہ عالمی سطح پر اس کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ صدر پوتن کے یورپ کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات کے پس منظر میں اس دورے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
کیا وہ ایران کے جوہری پروگرام کا کارڈ استعمال کریں گے؟ خلیج فارس کے ساحل پر بوشہر کے مقام پر روسی ماہرین ایران کے سب سے بڑے جوہری ری ایکٹر پر کام کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ پہلے ہی تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ روس کا دعوی ہے کہ ایران اس منصوبے کی ادائیگیاں وقت پر نہیں کر رہا جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ روس سیاسی مصلحتوں کی بنا پر اس منصوبے سے جان چھڑا رہا ہے۔ سوموار کو ایران کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ چند گھنٹوں میں بوشہر کے جوہری ری ایکٹر کے حوالے سے اچھی خبر ملے گی۔ ایران اس حوالےسے جس اچھی خبر کی توقع کر رہا ہے وہ اس جوہری ری ایکٹر کے اگلے سال مکمل ہونے کی یقین دہانی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عمومی توقعات ہیں۔ واشنگٹن ایران کے خلاف نئی پابندی عائد کرنے پر اصرار کر رہا ہے جبکہ روس ان پابندیوں کو روکنے کی کوششیں کر رہا تاکہ جوہری توانائی کا عالمی ادارہ آئی اے ای اے ایران کے ساتھ مل کر تمام تصفیہ طلب امور کو حل کر لے۔ ایران اور آئی اے ای اے نے تمام تصفیہ طلب معاملات کو دسمبر تک حل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دسمبر کے بعد اس معاملے پر صورت حال واضح ہو جائے گی اور روس کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔ تاحال روس ایران کے بارے میں ہمدردانہ رویہ رکھتا ہے۔ فرانس کے صدر نکولس سروکزی سے حالیہ ملاقات کے دوران روسی صدر نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے بارے میں واضح ثبوت موجود نہیں ہیں۔ لیکن روسی صدر کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی طرف سے روس سے جوہری ایندھن خریدنے پر انکار کی وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑی تھی۔ روس جہاں مذہبی عقائد پر ایک عرصے تک پابندی رہی ہے اور دوسری طرف ایران جو ایک اسلامی ملک ہے دونوں کے درمیان تعلقات آسان نہ ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||