BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 December, 2007, 23:07 GMT 04:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران اب جوہری منصوبہ ترک کردے: امریکہ
بشہر میں جوہری پلانٹ
روسی وزارت خارجہ نے اب بھی یہ اشارہ دیا ہے کہ ایران اب اپنا جوہری پروگرام روکنے کے بارے میں غور کرے۔ البتہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام جاری رہے گا۔
امریکہ نے روس کی جانب سے ایران کو جوہری ایندھن فراہم کرنے کے بعد کہا کہ اب ایران کو یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ ترک کر دینا چاہیے۔ روس نے بشہر میں جوہری پلانٹ جوہری پلانٹ کو کئی ماہ کے تعطل کے بعد ایندھن کی کھیپ ترسیل کی ہے۔

امریکی صدر بش کی حکومت روسی حکومت پر دباؤ ڈالتی رہی ہے کہ وہ ایران کو جوہری ایندھن فراہم نہ کرےکیونکہ اسے خدشہ رہا ہے کہ ایران خفیہ طور پر اس ایندھن کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔ مگر امریکہ کے خفیہ اداروں نے اپنی تازہ رپورٹ میں یہ کہا ہے کہ ایران سن دو ہزار تین سے جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ ترک کر چکا ہے۔ روسی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ یہی رپورٹ اب جوہری ایندھن کی فراہمی کا باعث بنی ہے جو کئی ماہ سےرکا ہواتھا۔

روس کے اس اقدام پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر جارج بش نے اب یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ روس کے ایندھن کی فراہمی کے عمل کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ بقول ان کے اب تو ایران کو اپنا یورینیم کا افزودگی کا پروگرام رکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہی ہے۔

امریکی حکومت کو اب بھی اس بات پر تشویش جاری رہ سکتی ہے کہ ایرانی حکومت روسی جوہری ایندھن کے استعمال کے دوران پلوٹونیم نکال سکتی ہے جس سے ایٹم بم بن سکتا ہے۔ مگر روس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جوہری ایندھن جوہری توانائی کے عالمی نگران ادارے آئی اے ای اے کے کنٹرول میں استعمال ہوگا اور بوشہر میں استعمال کے بعد یہ جوہری فضلہ روس کو واپس کر دیا جائے گا۔

روسی وزارت خارجہ نے اب بھی یہ اشارہ دیا ہے کہ ایران اب اپنا جوہری پروگرام روکنے کے بارے میں غور کرے۔ البتہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام جاری رہے گا۔ امریکی صدر جارج بش اب بھی مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ ایران خطے کے لیے خطرہ ہے اور اس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی تیسری قرارداد لانی ضروری ہے۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ خود امریکہ کی اپنی انٹیلی جنس رپورٹ کے آنے کے بعد اب یہ کام مشکل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد