BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 December, 2007, 23:45 GMT 04:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹمی اسلحہ:ایران’پرعزم نہیں‘:
ایران کا جوہری پروگرام(فائل فوٹو)
ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام عالمی دباؤ کے بعد بند کیا :رپورٹ
امریکی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے’اتنا پرعزم نہیں‘ جتنا کہ اسے سمجھا گیا ہے۔

خفیہ اداروں کی جانب سے تیار کردہ جائزہ رپورٹ کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیاروں پر کام سنہ 2003 میں بند کر دیا تھا تاہم اس نے یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

امریکی صدر بش کے ایک سینئر مشیر کا کہنا ہے کہ یہ ایک’مثبت‘ رپورٹ ہے تاہم جوہری ایران کا خطرہ ایک’سنجیدہ‘ معاملہ ہے۔

سولہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے تیار کردہ ’نیشنل انٹیلیجنس ایسٹی میٹ اسیسمنٹ‘ کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا پروگرام عالمی دباؤ کے بعد بند کیا اور انہیں اس حوالے سے’ کسی حد تک یقین‘ ہے کہ یہ پروگرام دوبارہ شروع نہیں ہوا ہے۔

خفیہ اداروں کی یہ رپورٹ ماضی کی ان رپورٹوں کے بالکل برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے سنہ 2007 میں یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہونے والےگیس سنٹری فیوجز کی تنصیب میں’خاطر خواہ‘ کامیابی‘ حاصل کی لیکن اسے ان نئے آلات کے استعمال کے حوالے سے تکنیکی مشکلات درپیش ہیں۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان نہیں کہ ایران سنہ 2010 سے قبل اتنی افزودہ یورینیم جمع کر سکے جو ایک جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار ہوتی ہے۔

 رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے سنہ 2007 میں یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہونے والےگیس سنٹری فیوجز کی تنصیب میں’خاطر خواہ‘ کامیابی‘ حاصل کی لیکن اسے ان نئے آلات کے استعمال کے حوالے سے تکنیکی مشکلات درپیش ہیں۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلے کا کہنا ہے کہ رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے امریکی’خدشات درست تھے‘ اور صدر جارج بش نے’صحیح حکمتِ عملی اپنائی‘۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو’ایران پر دباؤ بڑھانا چاہیے‘ اور اس حوالے سے سفارتی طور پر تنہائی، اقوامِ متحدہ کی پابندیوں اور اقتصادی مقاطعے جیسے حربے استعمال کیے جانے چاہیئیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر بش نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری عزائم پر قابو پانا تیسری جنگِ عظیم سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

اسی بارے میں
مشرق وسطی امن کانفرنس
26 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد