ایران: مذاکرات ناکام، مزید پابندیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعے کے اگلے ممکنہ مرحلے میں امکان ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگوانے کی کوشش کی کریں گے۔ ایران اور مغربی مملک کے درمیان جاری مذاکرات میں تازہ ترین ناکامی گزشتہ جمعے کو اس وقت منظر عام پر آئی جب لندن میں ایران کے جوہری سفارتکار سعید جلیلی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے نمائندے جاوئیر سلونا کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ مذاکرات کے اس دور کے بعد جب سلونا صاحب نے یہ کہا کہ وہ ’مایوس‘ ہوئے ہیں اور جلیلی صاحب نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کا مطالبہ ’ناقال قبول‘ ہے تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی۔ واضح رہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی لیے سکیورٹی کونسل کی سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ وہ غیر دفاعی مقاصد کے لیے بھی یورینیم کی افزودگی بند کر دے۔ اتحاد پر دباؤ اب تک سکیورٹی کونسل کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیوں کے دو مراحل ہو چکے ہیں۔ پہلے مرحلے میں یہ پابندی لگائی گئی تھی کہ ایران کو اس قسم کی کوئی ٹیکنالوجی یا مواد نہیں دیا جائے جو یورینیم کی افزودگی یا دیگر جوہری مقاصد کے لیے استعمال ہو سکے۔
دوسرے مرحلے میں اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر پابندی لگائی گئی کہ وہ ایسی اٹھائیس تنظیموں اور افراد سے کوئی لین دین نہ کریں جن کا تعلق ایران کی انقلابی فوج یا پاسداران انقلاب سے ہے۔ پابندیوں کے تیسرے ممکنہ مرحلے کا نشانہ ایران کی تیل کی صنعت اور ایران کو برآمد کی جانے والی اشیاء پر ملنے والی تجارتی سہولیات ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس تیسرے مرحلے تک پہنچنے سے پہلے سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان اتحاد میں دراڑ پڑتی جا رہی ہے اور چین اور روس دونوں ایران کے خلاف پابندیوں میں کوئی بڑا اضافہ کرنے کے لیے زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔ تاہم یہ دونوں ممالک پابندیوں کے تیسرے مرحلے کے قائل ہیں اور اپنی اس سلسلے میں اپنی حمایت کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ چین اور روس نے بھی کہا تھا کہ اگر جاوئیر سلونا کے ساتھ مذاکرات اور ایران پر بین الاقوامی جوہری ادارے کی رپورٹ کے کوئی ’مثبت نتائج‘ نہیں نکلتے تو وہ پابندیوں کی تیسرے مرحلے کے مسودے کو حتمی شکل دے دینگے۔
امریکہ اپنے طور پر پہلے ہی ایران کے خلاف وسیع تر پابندیوں کا اعلان کر چکا ہے اور اگر اقوام متحدہ میں مزید پابندیوں پر اتفاق نہیں ہوتا تو ممکن ہے کہ یورپی یونین بھی اپنے طور پر ایران کے خلاف مزید اقدامات کر دے۔ مغربی ممالک کے اتحاد میں دراڑ کے علاوہ نومبر کے اوائل میں بین الاقوامی جوہری ادارے نے بھی جو رپورٹ تیار کی تھی اس کے نتائج بھی ملے جلے تھے۔ اگرچہ اس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی ماضی کی جوہری سرگرمیوں پر اٹھائے جانے والے سوالات پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی جاری رکھی ہوئی ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے تقریباً تین ہزار سینٹری فیوج لگا رکھے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ صرف جوہری توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے جوہری ہتھیار نہیں۔ اس کے علاوہ آئی اے ای اے نے یہ بھی کہا تھا کہ سکیورٹی کونسل کے مطالبے کے برعکس بھاری پانی کے ایک ریئکٹر کی تعمیر بند نہیں کی اور نہ اس نے ایسے انتظامات کیے ہیں جن کے تحت ادارہ اس کی جوہری تنصیبات کا تفصیلی جائزہ لے سکے۔ فوجی کارروائی کی تجویز ایران کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کے علاوہ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات اور پاسداران انقلاب کے خلاف فوجی کارروائی کو ایک سنجیدہ اور قابل عمل تجویز سمجھتا ہے یا نہیں۔ اسرائیل کی بے چینی بڑھ رہی ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں ناکام ہو رہی ہیں اور اس کی کوشش ہوگی کہ ایران کے خلاف مزید اقدامات کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالے ۔ تاہم فی الوقت لگتا ہے کہ امریکہ مزید اقدامات پر راضی نہیں ہے۔ اگلے روز امریکہ کی مرکزی کمان کے ایڈمرل ولیم فالن نے کہا ہے کہ ’ ایران پر حملے کی کوئی تجویز زیرِغور نہیں ہے۔‘ |
اسی بارے میں ایران پر پابندیوں کی قرارداد مؤخر28 September, 2007 | آس پاس ایران کو افزودہ یورینیم کی پیشکش02 November, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||