ایران کے جوہری امور پر اہم اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے حکام سنیچر کو پیرس میں ملاقات کریں گے جس میں ایران پر اس کا جوہری پروگرام ترک کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کے نئے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔ اس بات چیت میں جرمن حکام بھی شریک ہو رہے ہیں۔ بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے گروپ میں شامل مغربی ممالک کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگائے جانے پر زور دیں گے۔ تاہم روس اور چین ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگائے جانے کی مخالفت کرچکے ہیں اور پیرس میں ہونے والی اس بات چیت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر روس اور چین کا حالیہ موقف انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ جمعہ کویورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئیر سولانا جوہری امور پر ایران کے مذاکرات اعلیٰ سعید جلیلی کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کو مایوس کن قرار دے چکے ہیں۔ اس بات چیت کے اختتام پر سعید جلیلی کا کہنا تھا کہ ایران سے یورینیم کی افژودگی ترک کیے جانے کی توقع رکھنا فضول ہے۔ |
اسی بارے میں ایران پر پابندیوں کی قرارداد مؤخر28 September, 2007 | آس پاس ایران کو افزودہ یورینیم کی پیشکش02 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||