 | | | ایران کا اصرار رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پُرامن ہے اس پر کوئی بات نہیں ہو سکتی |
ایران یورینیم کی افزودگی کے لیے عرب ممالک کے منصوبے پر غور کرنے اور افژودگی سوئٹزرلینڈ جیسے کسی غیر جانبدار ملک میں کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اس کا اظہار خبر رساں ادارے ڈاوجانز کو سعودی عرب میں دیے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ ایرانی صدر اوپک سربراہ اجلاس کے سلسلے میں ان دنوں سعودی عرب میں ہیں۔ خلیجی ریاستوں اور عرب ممالک نے ایران اور دوسرے ممالک کو ایٹمی ایندھن فراہم کرنے کے لیے حال ہی میں ایک کنسورشیم کی تجویز منظور کی ہے۔ ایران اس پر اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پُرامن ہے اس پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ ایرانی صدر کی جانب سے اس آمادگی کا اظہار سوئٹزرلینڈ کی صدر میکلینی کامے رے کی اس اعلان کے بعد آیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال پر ایران کے حق کو تسلیم کرتی ہیں۔ صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ’ہم اپنے (عرب) دوستوں سے بات کر رہے ہیں‘۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق چھ ممالک پر مشتمل خلیج کونسل ایران کو افزودہ یورینیم فراہم کرنے کے لیے ایک کثیرالقومی کنسورشیم بنائے گی۔
|