روسی جوہری ایندھن ایران روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے روس نے نیوکلیائی ایندھن کی پہلی کھیپ ایران کے حوالے کر دی ہے۔ کئی سالوں کی تاخیر کے بعد پچھلے ہفتے دونوں ممالک میں پلانٹ کی تکمیل کے نظام الاوقات پر معاہدہ طے پایا تھا۔ بعض مغربی ممالک کو اندیشہ ہے کہ ایران نیوکلیائی ہتھیار بنا رہا ہے جبکہ تہران کا کہنا تھا کہ ایران کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی روکنے سے انکار کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی میں ایران پر دو مرتبہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ یورینیم کو افزودگی کے بعد جوہری بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اور مزید افزودگی کے بعد اسے نیوکلیائی ہتھیاروں کی تیاری کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بشہر کے مقام پر ایران کے دو ری ایکٹرز موجود ہیں جن میں سے ایک تکمیل کے قریب ہے۔ اورامید یہ ہے کہ ایران میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا ری ایکٹر ہوگا۔ ایران نے اپنا پہلا ری ایکٹر انیس سو چوہتر میں بشہر کے جنوب مغربی ساحل پر بنایا۔ روس کی پلانٹ تعمیر کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ایران روانگی سے قبل اقوامِ متحدہ کی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے نمائندوں کے زیر نگرانی ایندھن کے کنٹینرز کا جائزہ لے کر انہیں بند کیا گیا ہے۔ روس کے وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے انہیں یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اس ایندھن کو بشہر کے علاوہ کہیں اور استعمال نہیں کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ایران پر مزید پابندیاں عائد24 March, 2007 | آس پاس این پی ٹی سے الگ ہونے کی دھمکی07 May, 2006 | آس پاس ایرانی پیشکش ایک بہانہ: امریکہ18 March, 2006 | آس پاس ’فوجی کارروائی کا راستہ کھلا ہے‘10 March, 2006 | آس پاس مذاکرات میں ایرانی عدم دلچسپی04 December, 2005 | آس پاس یو این قرارداد غیرقانونی: ایران 25 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||