’ایران مشرق وسطیٰ کیلیے خطرہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ اور امریکہ کے لیے اب بھی ایک سنگین خطرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بحرین کے دارالحکومت میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس میں خطاب کے دوران رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ کے برعکس کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام بند کردیا تھا، ایران نے غالباً اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے خلیجی ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے سابقہ جوہری عزائم سے خود کو پاک کرے اور یورنیم کی افژودگی سے باز آجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو یورنیم کی افژودگی معطل کرنے پر مجبور کرنے کی امریکی کوششیں سو فیصدی سفارتی اور معاشی تھیں تاہم دیگر تمام آپشنز بھی مذاکرات کی میز پر موجود تھے۔ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے تھے تاہم آخری لمحات میں انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے کا ارادہ ملتوی کردیا۔ دوسری طرف ایران ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ حال ہی میں عراق، افغانستان اور افریقہ کا دورہ کرنے والے رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی خطے کے لیے ایک خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’خطے میں عدم استحکام اور افراتفری کو ہوا دینا ایران کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس سے درکنار کہ اس کی حکمت عملی یا قیمت یکساں طور پر معصوموں، عیسائی، یہودیوں اور مسلمانوں، کا خون ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا: ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان (ایران) کی عدم استحکام پر مبنی خارجہ پالیسیاں امریکی مفادات اور مشرقی وسطیٰ کے ہر ملک کے مفادات کے لیے ایک خطرہ ہیں اور ان تمام ممالک کے مفادات کے لیے جو بیلسٹیک میزائل کی زد میں آتے ہیں جوایران تیار کر رہا ہے۔‘ مسٹر گیٹس نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ گزشتہ ہفتے یو ایس نیشنل انٹیلیجنس رپورٹ نے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کا پروگرام چار سال قبل بند کردیا تھا، امریکی صدر بش کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں اور ان کے اتحادیوں کو مخمصے کا شکار کردیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ نامناسب وقت پر سامنے آئی ہے تاہم اس کے وقت اور اس کے اجزاء کا تعین امریکی حکومت نے نہیں بلکہ یو ایس نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر نے کیا ہے۔ رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ رپورٹ اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ کئی سال سے پسِ پردہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا پروگرام جاری تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ درحقیقت ایران نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر ایران اس کو کسی بھی وقت دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران عراق میں ملیشیا اور مزاحمت کار تنظیموں جیسے حماس اور حزب اللہ کی مالی امداد بھی کر رہا تھا۔ |
اسی بارے میں ’رپورٹ ایران کےلیے بڑی جیت ہے‘ 05 December, 2007 | آس پاس ’ایران اب بھی ایک خطرہ ہے‘04 December, 2007 | آس پاس ایٹمی اسلحہ:ایران’پرعزم نہیں‘:03 December, 2007 | آس پاس ایران کے خلاف نئی قرار داد پر اتفاق02 December, 2007 | آس پاس ایران کے جوہری امور پر اہم اجلاس01 December, 2007 | آس پاس ایرانی افزودگی کسی اور ملک میں19 November, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||