’ایران اب بھی ایک خطرہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے باوجود کے تہران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا، ایران اب بھی ایک خطرہ ہے۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ ایک ’وارننگ سگنل‘ ہے اور میرا یہ نظریہ کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران ایک خطرہ ہوگا، تبدیل نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران ابھی تک یورنیم کو افژودہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنا جوہری پروگرام شروع کر سکتا ہے۔ اس سے قبل ایران نے امریکی خفیہ اداروں کی اس اہم رپورٹ کا خیر مقدم کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ تہران اس وقت جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش میں نہیں ہے۔ خفیہ اداروں کی رپورٹ یا نیشنل انٹیلیجنس ایسٹیمیٹ کا کہنا ہے کہ ایران نے سنہ دو ہزار تین میں اپنے جوہری پروگرام پر کام بند کر دیا تھا۔ تہران نے ہمیشہ کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔لیکن امریکہ اور مغربی ممالک کہتے رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی نے امریکہ میں رائے کی اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا ہے۔’ہمارا اس رپورٹ کاخیر مقدم کرنا فطری ہے کیونکہ جو ممالک ماضی میں ایران پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں یا غلط فہمیاں پیدا کرتے رہے ہیں، اب اپنے خیالات میں حقیقت پسندانہ انداز میں ترمیم کر رہے ہیں‘۔
ایرانی ٹیلیوژن نے خفیہ رپورٹ کو ’فتح‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران نہ صرف ’دیانتدار‘ تھا بلکہ اس کا موقف ثابت ہو گیا ہے۔ تاہم یہ کہا ہے کہ اب بھی خفیہ رپورٹ میں نقائص موجود ہیں۔ ایران پر فی الوقت اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ خود امریکہ کی طرف سے بھی ایران یکطرفہ پابندیوں کا شکار ہے۔ بی سی سی کے نامہ نگار پال رینلڈز کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف پابندیاں ہٹائے جاننے کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ تہران نے سلامتی کونسل کے یورینیم کی افژودگی بند کرنے کے مطالبے کو نہیں مانا۔ نامہ نگار کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایران کے خلاف بیانات کی گرمی تو کم ہو جائے گی لیکن سلامتی کونسل اور تہران کے درمیان جو قضیہ جاری ہے، وہ ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ عالمی جوہری ادارے نے بھی اس رپورٹ پر مثبت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود ادارے کی سابقہ رپورٹوں میں یہ کہا گیا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران کا کوئی کوئی ایسا جوہری پروگرام جسکے بارے میں اس نے معلومات فراہم نہ کی ہوں۔ اس سے قبل امریکہ میں ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا تھا کہ خفیہ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد امریکی پالیسی پر ازسرِ نو غور کی ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں ’ایران پالیسی، نظرِ ثانی کی ضرورت‘04 December, 2007 | آس پاس ایران:’ کینیڈین سفیر ملک بدر‘04 December, 2007 | آس پاس ایٹمی اسلحہ:ایران’پرعزم نہیں‘:03 December, 2007 | آس پاس ایران پر پابندیوں کی قرارداد مؤخر28 September, 2007 | آس پاس ایران کو افزودہ یورینیم کی پیشکش02 November, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||