BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 December, 2007, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران اب بھی ایک خطرہ ہے‘
ایرانی ٹیلیوژن نے خفیہ رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس ایران کی فتح قرار دیا
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے باوجود کے تہران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا، ایران اب بھی ایک خطرہ ہے۔

صدر بش کا کہنا تھا کہ پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ ایک ’وارننگ سگنل‘ ہے اور میرا یہ نظریہ کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران ایک خطرہ ہوگا، تبدیل نہیں ہوا۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران ابھی تک یورنیم کو افژودہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنا جوہری پروگرام شروع کر سکتا ہے۔

اس سے قبل ایران نے امریکی خفیہ اداروں کی اس اہم رپورٹ کا خیر مقدم کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ تہران اس وقت جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش میں نہیں ہے۔

خفیہ اداروں کی رپورٹ یا نیشنل انٹیلیجنس ایسٹیمیٹ کا کہنا ہے کہ ایران نے سنہ دو ہزار تین میں اپنے جوہری پروگرام پر کام بند کر دیا تھا۔

تہران نے ہمیشہ کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔لیکن امریکہ اور مغربی ممالک کہتے رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی نے امریکہ میں رائے کی اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا ہے۔’ہمارا اس رپورٹ کاخیر مقدم کرنا فطری ہے کیونکہ جو ممالک ماضی میں ایران پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں یا غلط فہمیاں پیدا کرتے رہے ہیں، اب اپنے خیالات میں حقیقت پسندانہ انداز میں ترمیم کر رہے ہیں‘۔

ایرانی ٹیلیوژن نے خفیہ رپورٹ کو ’فتح‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران نہ صرف ’دیانتدار‘ تھا بلکہ اس کا موقف ثابت ہو گیا ہے۔ تاہم یہ کہا ہے کہ اب بھی خفیہ رپورٹ میں نقائص موجود ہیں۔

ایران پر فی الوقت اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ خود امریکہ کی طرف سے بھی ایران یکطرفہ پابندیوں کا شکار ہے۔

بی سی سی کے نامہ نگار پال رینلڈز کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف پابندیاں ہٹائے جاننے کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ تہران نے سلامتی کونسل کے یورینیم کی افژودگی بند کرنے کے مطالبے کو نہیں مانا۔

نامہ نگار کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایران کے خلاف بیانات کی گرمی تو کم ہو جائے گی لیکن سلامتی کونسل اور تہران کے درمیان جو قضیہ جاری ہے، وہ ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔

عالمی جوہری ادارے نے بھی اس رپورٹ پر مثبت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود ادارے کی سابقہ رپورٹوں میں یہ کہا گیا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران کا کوئی کوئی ایسا جوہری پروگرام جسکے بارے میں اس نے معلومات فراہم نہ کی ہوں۔

اس سے قبل امریکہ میں ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا تھا کہ خفیہ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد امریکی پالیسی پر ازسرِ نو غور کی ضرورت ہے۔

روس ایران تعلقات
ایران روس تعلقات توقعات اور پیچیدگیاں
پاسداران انقلاب
کیا ایران پر حملےکی تیاری کی جا رہی ہے؟
ایک نئی سرد جنگ؟
امریکہ اور ایران میں بڑھتی ہوتی ہوئی خلیج
اے سی 130 گن شپایران پر حملہ؟
ایران پر حملے سے کیا صورتحال پیدا ہوگی؟
ایرانی جوہری پلانٹایران نیوکلیئر
سکیورٹی کونسل کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار۔
ضرورت کیا ہے؟
ایران کے جوہری پروگرام پر نئی بحث
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد