BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 December, 2007, 05:03 GMT 10:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران پالیسی، نظرِ ثانی کی ضرورت‘
ہیری ریڈ
امید ہے کہ بش انتظامیہ اپنے لہجے اور پالیسی میں تبدیلی لائے گی: ہیری ریڈ
امریکہ میں ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے یہ بیان اس خفییہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے’اتنا پرعزم نہیں‘ جتنا کہ اسے سمجھا گیا ہے۔

خفیہ اداروں کی جانب سے تیار کردہ جائزہ رپورٹ کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیاروں پر کام سنہ 2003 میں بند کر دیا تھا تاہم اس نے یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ لیڈر ہیری ریڈ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ’بش انتظامیہ اس رپورٹ کا بغور جائزہ لے گی اور اسے مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے لہجہ اور پالیسی میں تبدیلی لائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بش انتظامیہ کو ایران کے معاملے میں سابق صدر ریگن کی ان پالیسیوں کی نقل کرنی چاہیے جو انہوں نے سویت یونین کے حوالے سے اپنائی تھیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ کس قدر اہمیت کی حامل مانی جا رہی ہے۔

 ایران نے سنہ 2007 میں یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہونے والےگیس سنٹری فیوجز کی تنصیب میں’خاطر خواہ‘ کامیابی‘ حاصل کی لیکن اسے ان نئے آلات کے استعمال کے حوالے سے تکنیکی مشکلات درپیش ہیں۔
امریکی انٹیلیجنس رپورٹ

اس سے قبل امریکی صدر بش کے ایک سینئر مشیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک’مثبت‘ رپورٹ ہے تاہم جوہری ایران کا خطرہ ایک’سنجیدہ‘ معاملہ ہے۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلے کا کہنا ہے کہ رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے امریکی’خدشات درست تھے‘ اور صدر جارج بش نے’صحیح حکمتِ عملی اپنائی‘۔

سولہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے تیار کردہ ’نیشنل انٹیلیجنس ایسٹی میٹ اسیسمنٹ‘ کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا پروگرام عالمی دباؤ کے بعد بند کیا اور انہیں اس حوالے سے’ کسی حد تک یقین‘ ہے کہ یہ پروگرام دوبارہ شروع نہیں ہوا ہے۔

خفیہ اداروں کی یہ رپورٹ ماضی کی ان رپورٹوں کے بالکل برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے سنہ 2007 میں یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہونے والےگیس سنٹری فیوجز کی تنصیب میں’خاطر خواہ‘ کامیابی‘ حاصل کی لیکن اسے ان نئے آلات کے استعمال کے حوالے سے تکنیکی مشکلات درپیش ہیں۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان نہیں کہ ایران سنہ 2010 سے قبل اتنی افزودہ یورینیم جمع کر سکے جو ایک جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
مشرق وسطی امن کانفرنس
26 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد