محمد البرادعی ایران پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری نگرانی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے جمعہ کو تہران پہنچ گئے ہیں۔ اس دو روزہ دورے کے دوران وہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام کے اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ محمد البرادعی ایرانی حکام سے مطالبہ کریں گے کہ وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کے مزید معائنے کی اجازت دیں۔ یاد رہے کہ البرادعی کا حالیہ دورۂ ایران ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کے صدر جارج بش بھی مشرقِ وسطٰی کے دورے پر ہیں۔ اس دورے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل پہنچنے پر جارج بش نے کہا ہے کہ ایران خطے کے لیے ایک خطرہ تھا،ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کی جانے والی یورینیم کی افزودگی ترک نہیں کر دیتا۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ افزودہ یورینیم کو ایٹمی بجلی گھروں میں استعمال کرنا چاہتا ہے تاہم امریکہ اور مغربی ممالک ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی ترک کر دے۔ افزودگی ترک نہ کرنے پر اقوامِ ممتحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر کچھ پابندیاں بھی عائد کی ہیں جبکہ امریکہ ایران پر مزید سخت پابندیوں کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔ | اسی بارے میں ایران پر پابندیوں کی قرارداد مؤخر28 September, 2007 | آس پاس ’حملہ آخری راستہ ہونا چاہیے‘18 September, 2007 | آس پاس ’ایران موقع کوہاتھ سے جانے نہ دے‘02 September, 2007 | آس پاس ’مزید پابندیوں کا وقت آگیا ہے‘23 May, 2007 | آس پاس ’جوہری ٹیکنالوجی بغیربریک کی ٹرین‘25 February, 2007 | آس پاس مشروط مذاکرات قبول نہیں:ایران20 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||