’حملہ آخری راستہ ہونا چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ آخری راستہ ہونا چاہیےاور اس کے لیے بھی سلامتی کونسل سے اجازت لینا ضروری ہے۔ عالمی جوہری توانائی کی ایجنسی آئی اے ای اے کا اجلاس آسٹریا کے شہر ویانا میں ہو رہا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سرِ فہرست ہے۔ ویانا میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں، لیکن طاقت کا استعمال آخری چارہ کار کے طور پر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ایران کے خلاف کی جانے والی حملے کی باتوں پر بہت تنقید کی اور کہا کہ ان باتوں سے انہیں عراق جنگ سے قبل کا ماحول یاد آ جاتا ہے۔ اس سے قبل فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخر تک جاری رہنے چاہیئں، لیکن ’ایران کا جوہری پروگرام پوری دنیا کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔‘
فرانس کے وزیرِ خارجہ بئرنار کوشنیئر نے فرانسیسی ٹی وی اور ریڈیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں بدترین کے لیے تیار رہنا چاہیئے، اور وہ بدترین جنگ ہے۔‘ ایران نے فرانس کے وزیرِ خارجہ بئرنار کوشنیئر کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دنیا کو ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی برادری کو ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے چاہیئں اور اگر یہ کامیاب نہ ہوتیں تو بقول انکے یا تو ایرانی بم کا نشانہ بننا پڑے گا یا پھر ایران پر بمباری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس چاہتا ہے کہ یورپی اتحاد ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہو جائے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ بیان سے فرانس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے الزام لگایا ہے کہ فرانس بندر کی طرح امریکہ کی نکل اتار رہا ہے۔
ابھی تک اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں لیکن فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔ تاہم امریکہ یہ عندیہ دے چکا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے وہ فوجی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ سفارتی امور کے مبصرین کہتے ہیں کہ فرانس کا یہ سخت گیر موقف امریکہ اور یورپی یونین کے ایران کے جوہری معاملے پر پیش رفت کے عدم اطمینان کی عکاسی کرتا ہے۔ پچھلے ماہ جوہری امور کی نگرانی سے متعلق عالمی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادئی نے ایران سے مفاہمت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس مفاہمت کے تحت ایران کو یہ مہلت دی گئی تھی کہ وہ جوہری پرورگرام کے ماضی کے بارے میں معلومات فوراً فراہم نہ کرے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کا خیال ہے کہ اس مہلت کے باعث ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کے عمل کو جاری رکھنے کا موقع مل گیا ہے۔ بظاہر تو مغربی ممالک نے ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے لیکن آئی اے ای اے سے ان کا عدم اعتمینان اب واضح ہوتا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ کے ذریعے اس معاملے کے حل کی بجائے انہوں نے اب جنگ اور تباہی کی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ایران سے جنگ کے لیےتیار رہیں‘16 September, 2007 | آس پاس ’ایران نے اہم ایٹمی ہدف حاصل کر لیا‘02 September, 2007 | آس پاس ’ایران موقع کوہاتھ سے جانے نہ دے‘02 September, 2007 | آس پاس شکوک کاخاتمہ: تجاویزایران کوقبول31 August, 2007 | آس پاس ’ایرانی حکومت کارروائیاں بند کرے‘28 August, 2007 | آس پاس جوہری ادارے کے تحفظات دُور:ایران28 August, 2007 | آس پاس ’ایٹمی سمگلنگ پہلے سے زیادہ‘27 June, 2007 | آس پاس ’مزید پابندیوں کا وقت آگیا ہے‘23 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||