ایرانی کارروائی خطرناک: رائس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ خلیج میں ایران کی حالیہ کارروائیاں اشتعال انگیز اور خطرناک تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے بی بی سی کی عربی سروس سے بات کرتے ہوئے ایران پر زور دیا کہ امریکہ کے خلیج میں مفادات ہیں اور وہ ان مفادات اور اپنے اتحادیوں کا تحفظ کرے گا۔ امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ اس اختتام ہفتہ آبنائے ہرمز میں پانچ ایرانی کشتیاں تین امریکی جنگی جہازوں کے قریب آئیں اور کچھ دیر کے لیے ان کو دھمکایا کہ وہ انہیں اڑا دیں گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی نے کہا کہ اس طرح کا واقعہ فریقین کے درمیان کبھی کبھار پیش آ جاتا ہے اور شناخت کے بعد معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ مارچ میں ایرانی پاسداران انقلاب نے پندرہ برطانوی فوجیوں کو پکڑ لیا تھا جنہیں دو ہفتے بعد چھوڑا گیا تھا۔ ایران نے کہا تھا کہ برطانوی فوجی ایرانی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ برطانیہ نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اس لحاظ سے اسے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ سمجھا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’مسئلہ سنگین اور ایرانی رویہ ناقابلِ معافی ہے‘31 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجیوں کے بدلے ایرانی: ’نہیں‘30 March, 2007 | آس پاس ’ایران پالیسی، نظرِ ثانی کی ضرورت‘04 December, 2007 | آس پاس ایران: ایک اور ’اعترافی‘ وڈیو30 March, 2007 | آس پاس کولمبیا یونیورسٹی میں خطاب24 September, 2007 | آس پاس ’بات چیت مثبت اور بے لاگ رہی‘28 May, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی وطن پہنچ گئے05 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||