ایران پر حملے کی اسرائیلی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے نائب وزیراعظم نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نےجوہری ہتھیاروں کی مبینہ تیاری کا پروگرام جاری رکھا تو اسرائیل ایران پر حملہ کر دے گا۔ ایک اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے شاؤل مفاذ کا کہنا تھا کہ ایران پر لگائی جانے والی پابندیاں غیر مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ شاؤل مفاذ نے کہا کہ’اگر ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا پروگرام جاری رکھتا ہے تو ہم اس پر حملہ کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ایسے حملے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہےگا‘۔ چند دن قبل امریکہ کے دورے کے دوران اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا تھا کہ’ایرانی خطرے کو ہر ممکنہ طریقے سے روکنا ضروری ہے‘۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایران پر تین مراحل میں پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ ان پابندیوں میں اثاثوں کا انجماد اور جوہری پروگرام سے منسلک ایرانی افراد اور کمپنیوں پر سفری پابندیاں بھی شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت ایران کو ایسی اشیاء بھی فروخت نہیں کی جا سکتیں جو سویلین اور فوجی دونوں قسم کے ایٹمی منصوبوں میں استعمال ہو سکتی ہوں۔ | اسی بارے میں ’ایران کا جوہری پروگرام روکیں‘04 June, 2008 | آس پاس ’ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے‘03 June, 2008 | آس پاس ’ایران معلومات چھپا رہا ہے‘27 May, 2008 | آس پاس ایران جوہری پروگرام پر اجلاس16 April, 2008 | آس پاس ’چھ ہزار سنٹری فیوج لگائیں گے‘08 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||