’چھ ہزار سنٹری فیوج لگائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر احمدی نژاد نے ایران کی یورنیئیم افزودہ کرنے کی صلاحیت میں زبردست اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی صدر نے ملک کی سب سے بڑی جوہری تنصیب نتانز کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ سائنسدان چھ ہزار نئے سنٹری فیوج لگا رہے ہیں۔ ایران کے پاس تین ہزار سنٹری فیوج پہلے سے موجود ہیں جن کی وجہ سے مغربی دنیا یہ شبہ ظاہر کرتی رہی ہے کہ ایران در پردہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی جانب سے اس اعلان پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی تشویش ہوگی کیونکہ وہ سن دو ہزار چھ سے تین مرتبہ ایران کے خلاف پابندیوں کا اعلان کر چکی ہے۔ اقوام متحدہ کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی بند کرے لیکن ایران اس کا مطالبے کو یہ کہہ کر مسترد کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ افزودہ یورینیم بجلی بنانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن زیادہ مقوی کیے جانے کی صورت میں اس سے جوہری بم بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ اس پس منظر میں سلامتی کونسل کا اپریل میں ایک اجلاس ہونے والا ہے جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ایران کو اپنا جوہری پروگرام ختم یا کم کرنے کے لیے سن دو ہزار چھ میں جن مراعات کی پیش کش کی گئی تھی انہیں بہتر بنایا جائے یا نہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ ایران پرنئی پابندیوں کا حامی 23 February, 2008 | آس پاس ایران بم بنا رہا ہے: برطانوی پارلیمان02 March, 2008 | آس پاس یورپی یونین سے مذاکرات مسترد06 March, 2008 | آس پاس ایران: قدامت پسندوں کی کامیابی16 March, 2008 | آس پاس ایرانی افزودگی کسی اور ملک میں19 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||