ایران بم بنا رہا ہے: برطانوی پارلیمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برطانوی پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایران یقیناً جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور اس کے بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ سنہ دو ہزار پندرہ تک ایٹم بم بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ پارلیمان کی امور خارجہ کی کمیٹی کے مطابق اس بات کے امکانات کم ہیں کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں سے اپنے جوہری منصوبے ترک کرنے پر قائل ہو جائے گا۔ کمیٹی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ براہ راست ایران سے بات چیت کرے۔ برطانوی ارکان پارلیمان کی رائے میں ایران کی جوہری تنصیبات کو حملہ کر کے تباہ کرنے سے بھی بات نہیں بنے گی۔ واضح رہے کہ پیر تین فروری کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں امکان ہے کہ ارکان ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی تجویز پر ووٹ دیں گے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ ایران کا اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں رویہ شفاف ہے تاہم ایران نے کوئی یقینی دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔ ایران نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ضمن میں جعلی دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔احمدی نژاد نے امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کی دھمکیوں پر کہا تھا کہ ایران پر جتنی بھی پابندیاں عائد کر دی جائیں وہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام سے نہیں روک سکتیں۔ |
اسی بارے میں ’ایران کا جوہری پروگرام جاری ہے‘26 February, 2008 | آس پاس ’ایرانی عوام سے معافی مانگے‘24 February, 2008 | آس پاس امریکہ ایران پرنئی پابندیوں کا حامی 23 February, 2008 | آس پاس عراق پر امریکہ، ایران مذاکرات09 February, 2008 | آس پاس ایران پر نظر کے لیے اسرائیلی سیارہ23 January, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||