ایران پر نظر کے لیے اسرائیلی سیارہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ پیر کو آندھراپردیش کے سری ہری کوٹہ لانچنگ مرکز سے اسرائیل کا جو جاسوسی سیارہ خلا میں بھیجا گيا وہ بنیادی طور پر ایران پر نظر رکھنے کے لیے ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ پاکستان کی بھی جاسوسی کرےگا۔ اسرائیل ایرو اسپیس کے ذریعے تیار کیا گيا’ ٹک سار‘ نامی یہ مصنوعی سیارہ دینا کی جدید ترین خلائی ٹکنولوجی سے بناہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہےکہ یہ نہ صرف چھوٹی سے چھوٹی شے کی تصویر لے سکتا ہے بلکہ یہ خراب موسم میں گھنے بادلوں کے باوجود بہترین تصویر یں حاصل کرنے کا اہل ہے۔ اسرائیل کے کئی دیگر جاسوسی سیارے پہلے ہی سے خلا میں موجود ہيں۔ ان میں ’اوفک سیون‘،’اوفک فائیو‘ اور’ ایروز بی‘ اور’ آموس ون‘،و’آموس ٹو‘ اہم ہيں۔ یہ جاسوسی سیارے چوبیس گھنٹے ایران اور بعض عرب ممالک پر نظر مرکوز رکھتے ہیں۔ ایران کی نیوکلیائی تنصیبات اور وہاں ہونے والی تمام تبدیلیوں کی تصویریں ان سیاروں کے ذریعے اسرائیل کو حاصل ہوتی ہیں۔ اسرائیل ایران کو اپنا اولین دشمن تصور کرتا ہے۔ چند مہینے قبل ایک اسرائیلی رہنما شاول موفاز نے کہا تھا کہ’ نازی ہولوکاسٹ(یہودیوں کے قتل عام) کے بعد ایران کا جوہری پروگرام یہودیوں کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘ اسرائیلی روز نامے ہاریٹز کے تجزیہ کار یوسی ملمین نے ٹک سار سیارے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’اس سیارے کے لانچ سے اسرائیل نے ایران کو ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ خلا میں جاسوسی کے شعبے میں اس کی برتری بر قرار ہے۔‘ ملمین کے مطابق گزشتہ ہفتے جریکو بیلسٹک میزائل کے تجربے کا مقصد بھی ایران کو متنبہ کرنا تھا۔ روزنامہ ہاریٹز نے بعض ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے مزید لکھا ہے کہ’ اسرائیل بعض معلومات تک ہندوستان کو بھی رسائی دے گا۔‘ ان اطلاعات سے واضح ہے کہ یہ جاسوسی سیارہ پاکستان پر بھی پوری طرح سے نظر رکھے گا۔
پاکستان کے جوہری پرو گرام کے بارے میں امریکہ کے ساتھ اسرائیل کو بھی کافی گہری دلچسپی رہی ہے۔ لیکن اسرائیل اور ہندوستان دونوں نے جاسوسی کے بارے میں خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ اخبار کے مطابق’ یہ اسرائیل کے لیے ایک حساس معاملہ ہے کیوں کہ اس سے پاکستان میں شدید ناراضگی پیدا ہوسکتی ہے۔‘ خود ہندوستان میں کمیونسٹ جماعتوں اور بعض مسلم رہنماؤں نے اسرائیلی سیارے کو خلا میں پہنچانے اور اسرائیل سے بڑھتے ہوئے تعلقات پر حکومت کی نکتہ چینی کی ہے۔ ہندوستانی اور اسرائیلی اخبارات کے مطابق ایران نے ہندوستان پر اس بات کے لیے شدید زور ڈالا تھا کہ وہ اسرائیلی سیارے کو لانچ نہ کرے لیکن حکومت نے ایران کی درخواست گزشتہ مہینے مسترد کردی تھی۔ آئندہ چند مہینوں میں اسرائیل کے مزید دو سیارے ہندوستان کے خلائی مرکز سے بھیجے جانے کا پروگرام ہے۔ |
اسی بارے میں عرب اسرائیل جنگ:’ میڈیا حقیقت چھپاتا رہا‘04 June, 2007 | آس پاس اسرائیل پر غیر متوقع امریکی تنقید28 December, 2006 | آس پاس حملہ کا الزام، ایران کا شدید ردعمل27 October, 2006 | آس پاس ’عرب دنیا اور بڑھتا ہوا شیعہ اثر‘24 October, 2006 | آس پاس تنازع حل کرنے کا انوکھا منصوبہ18 October, 2006 | آس پاس اسرائیل سے بدلے کی ایرانی دھمکی20 October, 2006 | آس پاس بشرالاسد کو اسرائیل سے دعوت 11 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||