عرب اسرائیل جنگ:’ میڈیا حقیقت چھپاتا رہا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیلی جنگ سے قبل مشرق وسطی میں نسبتاً امن کا دور تھا۔ انیس سو پینسٹھ میں فلسطینی چھاپہ مار تنظیموں نے مصر اور شام کی مدد سے اسرائیلی سرحدوں پر کچھ حملے کیے۔ اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی ہوئی، اور اسی پس منظر میں اسرائیلی سرحدوں پر عرب افواج جمع ہونا شروع ہوگئیں۔ جنگ اسرائیل نے شروع کی اور چھ روز میں مصر شام اور اردن کی فوجوں کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔ آج بھی جب مسئلہ فلسطین کے حل کی بات ہوتی ہے، تو فلسطینیوں کا بنیادی مطالبہ یہی ہوتا ہے کہ اسرائیل چار جون انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں پر واپس چلا جائے۔ لیکن جب یہ جنگ ہوئی، اس وقت عام فلسطینی کیا سوچ رہے تھے۔ کیا واقعی انہیں یقین تھا کہ عرب فوجیں فتح یاب ہوں گی؟ محمود ابو لیل اس وقت رملہ میں رہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے ’جنگ کے پہلے ہی دن اسرائیل نے شام اور اردن کی فضائیہ کو تباہ کر دیا۔ ہم نے اردنی افواج کو دیکھا، وہ کلاشنکوف رائفلوں سے لیس تھے، ان پر فضا سے بم باری ہو رہی تھی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کو روکنے والا کوئی نہ تھا۔ جب اسرائیلی فضائیہ نے مصر کے جنگی طیاروں کو نیست و نابود کیا تو محمود ابو لیل کے مطابق’عام طور پر عربوں کو امید تھی کہ ان کی افواج کامیاب ہوں گی کیونکہ عرب ذارئع ابلاغ ہمیں یہ ہی بتاتے رہے کہ ہم یہودیوں کو ختم کر دیں گے، ہم انہیں مار ڈالیں گے۔ ریڈیو پر ہم سنتے کہ یہودیوں کو بحیرۂ روم میں دھکیل دیا جائے گا، کہ سمندر میں مچھلیاں ان کی لاشوں کو خوراک بنائیں گی۔لیکن حقیقت یہ نہ تھی۔ ہوا اس کےبالکل بر عکس۔ اسرائیلیوں نے عرب افواج کو تباہ کر دیا اور ہمارے علاقوں پر قبضہ کر لیا‘۔
بی بی سی کے نامہ نگار کرسپن تھورولڈ کہتےہیں کہ مئی انیس سو سڑسٹھ میں جمال عبدالناصر نے سینائی اور غزہ سے اقوام متحدہ کی نگراں فوج کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، یہ دونوں علاقے اس وقت مصر کے کنٹرول میں تھے اور جس تیزی سے نگراں فوج ہٹانے کا مطالبہ تسلیم کیا گیا، اس کے لیے اسرائیل تیار نہ تھا۔اسرائیل نے ریزرو فوجیوں کو طلب کیا، اور جنگ کی تیاری شروع ہوگئی۔ جنگ کے دوسرے ہی دن اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا، اسی رات اردنی فوج نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا اور اسرائیلی افواج نے غرب اردن میں ان کا تعاقب کیا اور مصر کی فوج کو پورا سینائی کا علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس سب کے بیچ اسرائیل کے وزیرِخارجہ ابا ایبان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے۔’ ہمارے ملک کو تباہ کن امکانات کا سامنا تھا۔۔۔۔ میں سلامتی کونسل کو اسرائیل کی تاریخ کے بہترین دن کی کہانی سناؤں گا‘۔ جنگ کے تیسرے دن تک اسرائیل نے مشرقی یروشلم کے فصیل بند شہر، سینائی میں شرم الشیخ اور غرب اردن پر قبضہ کر لیا تھا، اور اس کی فوجیں نہر سوئیز تک پہنچ گئی تھیں۔ اسی دوران اقوام متحدہ نے مشرق وسطی میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ جنگ کے چوتھے روز سینائی میں مصری افواج کو شکست ہوئی اور غرب اردن میں اسرائیلی فون نے دریائے اردن پر تعمیر پلوں کو تباہ کر دیا۔ دس جون کو جنگ کے چھٹے دن، گولان میں شام کی فوجوں کو بھی شکست ہوئی اور فریقین میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔صرف چھ روز میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں، غرب اردن، غزہ کی پٹی، اور سینائی پر قبضہ کر لیا۔ سینائی کے علاوہ یہ تمام علاقے آج تک اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||