BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 October, 2006, 06:47 GMT 11:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تنازع حل کرنے کا انوکھا منصوبہ

سارہ، ڈینیالہ اور نادیہ
مشرق وسطٰی میں اسرائیلی فلسطینی تنازع حل کرنے کے مقصد سے امریکہ کی ریاست نیوجرسی کی رتگیرز یونیورسٹی کی چند طالبات نے ایک نئی کوشش شروع کی ہے۔

اس کوشش کے تحت ایک ’مڈل ایسٹ کو ایگززٹنس ہاؤس‘ یا مشرق وسطٰی کا مشترکہ گھر بنا یا ہے جہاں کئی مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین ایک ہی چھت کے نیچے رہتی ہیں۔

اس کا مقصد اس پیچیدہ تنازع کو مذاکرات سے حل کرنا ہے۔ ان گیا رہ خواتین میں 5 یہودی، 3 مسلمان، ایک ہندو ایک عیسائی اور ایک لادین خاتون شامل ہے۔

ایک مسلمان طالبہ نادیہ شیخ کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ بیشتر طالبات مشرق وسطٰی سے تعلق رکھتی ہیں۔ تاہم یہ سب امریکہ میں پیدا ہوئی ہیں۔ ان تمام طالبات نے مشرق وسطٰی سے متعلق ایک خاص کورس میں بھی داخلہ لے رکھا ہے۔

اس کوشش کی منصوبہ بندی ڈینیالہ جوزف نامی طالبہ نے شروع کی تھی اور اس ہاسٹل کا افتتاح پچھلے ہفتے ہی کیا گیا ہے۔ ڈینیالہ کا کہنا ہے ’میں نے کیمپس میں یہودی اور مسلمان طالبات کے درمیان شدید نفرت دیکھی، تبھی میں نے طے کیا کہ کچھ کرنا چاہیئے‘۔

نادیہ شیخ کا کمرہ
نادیہ شیخ کا کمرہ

وہ کہتی ہیں کہ ساتھ رہنے کے بعد ممکن ہی نہیں کہ آپ ایک دوسرے سے نفرت کرسکیں۔

اس ہاسٹل کے ہر کمرے میں دو مختلف مذاہب کی خواتین رہتی ہیں۔ رات کے دو بجے تک مختلف موضوعات پر بحث کرنا اب ان کا معمول ہے۔

امریکہ میں کئی حلقے اس کوشش کو سراہ رہے ہیں۔ لیکن شروع میں اس کوشش کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تھا بلکہ کچھ حد تک اس کی مخالفت بھی کی گئی۔

19 سالہ نادیہ اس کوشش سے خوش ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اب ہم ہر معاملے پر کھل کر بحث کرتے ہیں چاہے وہ صیہونیت ہو یا پھر اسلام اور جہاد کا موضوع۔

ہندوستانی نژاد رچی گپتا کہتی ہیں کہ اس طرح کی کوشش سے مشرق وسطٰی کے علاوہ بھی دوسرے علاقوں کے لوگوں میں پایا جانے والے اختلافات دور کرنے کے لیئے بھی ایسے ہی منصوبے ہونے چاہئیں۔

لیکن رچی کو اس ہاسٹل میں رہنے کے لیئے گھر والوں کی مخالفت کا بھی سامنا رہا۔

یہ طالبات ہفتے میں ایک مرتبہ ایک ہال میں جمع ہو کر اسرائیل فلسطین تنازع کو حل کرنے کے طریقوں پر بحث کرتی ہیں۔

ازبی
ازبی کہتی ہیں کہ جہاد کے بارے میں ان کا نظریہ بدل گیا ہے

ایک یہودی طالبہ استی ازبی کہتی ہیں کہ کبھی کبھار بحث بہت پرجوش ہوجاتی ہے۔ اس مباحثے کا اثر یہ پوا ہے کہ کئی معاملات پر کئی خواتین کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔ مثلاً ازبی کہتی ہیں کہ جہاد کے بارے میں ان کا نظریہ بدل گیا ہے۔ ’ہمیں بچپن ےس بتایا گیا تھا کہ جہاد ایک مذہبی جنگ ہے جس کا مقصد قتل و غارت گری ہے لیکن مطالعے سے معلوم ہوا کہ یہ خیال غلط ہے۔ جہاد کا مطلب تو جدو جہدڑ مشقت اور محنت ہے۔ اب میں جہاد کا نام آتے ہی یہ نہیں کہتی کہ یہ بری چیز ہے‘۔

یہ طالبات ایک دوسرے کی مذہبی تقریبات میں بھی شریک ہوتی ہیں۔ کچھ غیر مسلم طالبات نے مسلمان خواتین کے ساتھ روزے بھی رکھے۔

کئی حلقوں کی کوشش ہے کہ ایسے اور پراجیکٹ بھی امریکہ میں شروع کیئے جائیں۔ یہ کوشش بھی کی جارہی کہ یہ طالبات اسرائی اور فلسطینی علاقوں میں اس منصوبے کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پھیلائیں۔

لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اختلافات دور کرنے کا یہ خواب پورا ہوگا؟ خواب سے ہی سہی، شروعات تو کی جاسکتی ہیں۔

اسی بارے میں
رائس: صدر عباس کی حمایت
05 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد