حملہ کا الزام، ایران کا شدید ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے ارجنٹینا کے سرکاری وکلاء کے اس الزام پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے کہ 1994 میں بیونس آئرس میں یہودیوں کے ایک ثقافتی مرکز پر بم حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا۔ اس حملے میں پچاسی افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہوئے تھے۔ ارجنٹینا کے سرکاری وکلاء دھماکے کے سلسلہ میں ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی اور سات دیگر افراد کے گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ایرانی حکام نے یہ حملہ لبنان کے ملیشیا گروہ حزب اللہ سے کرایا تھا۔ ایرانی ریڈیو کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایران کی حکومت اور لبنانی شیعہ شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے خلاف اس الزام کو ’صیہونی طاقتوں کی سازش‘ کہا ہے۔ وزارت کے ترجمان محمد علی حسینی کاکہنا تھا کہ ’صہیونی مقاصد کے تحت اس الزام کو ایک نیا رنگ دیا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان الزامات کا مقصد ’دنیا کی توجہ فلسطینی عورتوں اور بچوں پر ڈھائے جانے والےصہیونی مظالم سے ہٹانا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی حکومت کی جانب سے ان الزامات کو مکمل رد کرتا ہوں۔ دراصل اس الزام کے پیچھے کچھ سیاسی وجوہات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ملزموں کو پکڑ نہیں پائے اور اب دوسروں پر الزام عائد کر رہے ہیں‘۔ ارجنٹینا میں ایرانی سفیر محسن بہراوند نے بھی کہا کہ یہ الزامات غیر قانونی ہیں۔ یاد رہے کہ ارجنٹینا میں بارہ سال پہلے یہودیوں کے ایک سات منزلہ ثقافتی مرکز پر بم حملہ ہوا تھا جس میں اس کی عمارت مکمل تباہ ہو گئی تھی۔ آج تک اس حملہ کے سلسلہ میں کسی پر جرم ثابت نہیں ہو سکا ہے تاہم ارجنٹینا کی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں انصاف کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ گزشتہ بارہ برس کے دوران یہ افواہیں گردش میں رہی ہیں کہ دھماکہ کی تفتیش کو دبا دیا جاتا رہا یا یہ نااہلی کا شکار رہی ہے لیکن دوسری طرف ابھی تک کوئی واضح ثبوت بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ ایران کے اعلیٰ حکام کے علاوہ اس حملہ میں کچھ عام افراد کے نام بھی لیے جاتے رہے ہیں جن میں ایک وین ڈرائیور بھی شامل ہے جس نے دھماکہ میں استعمال ہونے والی وین فروخت کی تھی، تاہم ابھی تک کسی شخص پر حملہ کا باقاعدہ الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ ایک سال کی تفتیش کے بعد وکیل استغاثہ البرٹو نسمان نے کہا کہ حملے کا انتظام اس وقت کی ایرانی حکومت نے کیا تھا اور حزب اللہ نے اس پر عمل کیا تھا۔
ارجنٹینا نے 1994 کی ایرانی حکومت کے اہلکاروں کی گرفتاری کے بین الاقوامی وارنٹ جاری کرنے کے لیے کہا ہے جس میں اس وقت کے صدر علی ہاشمی رفسنجانی بھی ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ متاثرین کے خاندان والے اور ارجنٹینا کے عوام سابق حکومتوں کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات کرانے میں زیادہ دلچسپی نہ رکھنے پر ناراض ہیں۔ ارجنٹینا میں لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی یہودی برادری رہتی ہے۔ ایران نے ہمیشہ حملے میں شمولیت کے الزام کی تردید کی ہے۔ گزشتہ نومبر ارجنٹینا کے ایک پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے ایک رکن کا حملے میں ہاتھ تھا اور اس کی شناخت ایف بی آئی اور ارجنٹینا کی انٹیلیجنس کے ایک مشترکہ آپریشن میں کی گئی ہے۔ تاہم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ شخص جس کا نام ابراہیم حسین بیرو بتایا گیا تھا جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ساتھ ایک لڑائی میں مارا جا چکا ہے۔ | اسی بارے میں ایرانی صدر ’یہود مخالف‘ نہیں ہیں21 September, 2006 | آس پاس ہماری فتح تاریخی ہے: نصراللہ22 September, 2006 | آس پاس ایران کا معاملہ پھر اقوام متحدہ میں؟27 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||